مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 258

مجموعہ اشتہارات ۲۵۸ جلد دوم پیشگوئی کرنے والا ہوں پیشگوئی کے پوری نہ ہونے کی حالت میں پھانسی دی جائے۔(۲) دوسری یہ کہ اُن کے لئے دس ہزار روپیہ گورنمنٹ میں جمع کرایا جائے یا ایسے بنک میں جس میں اُن کی تسلی ہو سکے اور اگر جو بد دعا سے نہ مریں تو اُن کو وہ روپیٹل جائے (۳) تیسری یہ کہ جب وہ قادیان میں قسم کھانے کے لئے آویں تو اس بات کا ذمہ لیا جائے کہ وہ لیکھرام کی طرح قتل نہ کئے جائیں۔اما الجواب۔واضح ہو کہ مجھے تینوں شرطیں اُن کی بسر و چشم منظور ہیں۔اور اس میں کسی طرح کا عذر نہیں۔جس عدالت میں چاہیں میں صاف صاف اقرار کر دونگا کہ اگر لالہ گنگا بشن صاحب میری بدعا سے ایک سال تک بچ گئے تو مجھے منظور ہے کہ میں مجرم کی طرح پھانسی دیا جاؤں۔اور گورنمنٹ سخت نا انصافی کرے گی اگر اس وقت مجھ کو پھانسی نہ دیوے۔کیونکہ جبکہ لالہ گنگا بشن صاحب جلسہ عام میں قسم کھا کر کہیں گے کہ ”میں بچے دل سے کہتا ہوں کہ در حقیقت پنڈت لیکھرام کا یہی شخص قاتل ہے۔اور اگر یہ شخص قاتل نہیں ہے بلکہ دین اسلام کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے خدا کی طرف سے یہ نشان ظاہر ہوا تو اے بیچ کے حامی خدا ایک سال تک مجھ کو سزائے موت دے۔پس اس صورت میں جبکہ وہ سزائے موت سے بچ جائیں گے تو اس میں کیا شک ہے کہ یہی ثابت ہو جائے گا کہ میں قاتل تھا یا قتل کے مشورہ میں شریک تھا یا اس پر کسی طرح سے اطلاع رکھتا تھا تو اس وجہ سے قانونا مجھے پھانسی دینا نا جائز نہ ہوگا۔گورنمنٹ ہزاروں مقدمات قسم پر فیصلہ کرتی ہے۔سو یہ گورنمنٹ کے اصول سے بالکل چسپاں بات ہے کہ اس طرح پر مجرم کو اس کی سزا تک پہنچائے۔غرض میں طیار ہوں نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ گورنمنٹ کی عدالت میں اقرار کر سکتا ہوں کہ جب میں آسمانی فیصلہ سے مجرم ٹھہر جاؤں تو مجھ کو پھانسی دیا جائے۔میں خوب جانتا ہوں کہ خدا نے میری پیشگوئی کو پوری کر کے دین اسلام کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے اپنے ہاتھ سے یہ فیصلہ کیا ہے۔پس ہرگز ممکن نہیں ہو گا کہ میں پھانسی ملوں یا ایک خرمہرہ بھی کسی تکذیب کرنے والے کو دوں بلکہ وہ خدا جس کے حکم سے ہر یک جنبش و سکون ہے اس وقت کوئی اور ایسا نشان دکھائے گا جس کے آگے گردنیں جھک جائیں!!