مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 254
مجموعہ اشتہارات ۲۵۴ جلد دوم والے سے کرنا چاہیے تھا۔لیکن اس نے لیکھرام کو شوخ اور بد زبان اور حد سے تجاوز کر نے والا پایا۔اس لئے اس کا قہر بھڑ کا۔اور وہی اس کی زبان کی چھری اس کے پیٹ کی آفت ہوگئی۔پس خدا نے آٹھم میں اپنی جمالی صفات کو ظاہر کیا اور لیکھرام میں اپنی جلالی صفات کو۔کیونکہ وہ دھیمے کے ساتھ دھیما ہو جاتا ہے۔اور شوخ اور بیباک کو اپنا قہری حملہ دکھاتا ہے۔کیا دنیا گواہی دے سکتی ہے کہ آتھم اور لیکھرام کے مزاج ایک ہی تھے۔اگر کوئی ایسی گواہی دے گا تو سخت ظلم کرے گا۔آتھم میں شرم و حیا تھی اور فطرتی طور پر اس کا دل سچائی کے خوف سے متاثر ہو جاتا تھا۔اس میں ہرگز شوخی نہیں تھی۔بلکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے نیک طبع اور نرمی اور شرم اور حیا اور تہذیب اور راستی کا خوف جلد تر دل میں بٹھانے میں آتھم جیسا ایک بھی شخص عیسائیوں میں اب تک نہیں پایا۔پس خدا نے جیسا اس کو پایا و بیاہی اس کے ساتھ معاملہ کیا مگر لیکھر ام کو آتھم سے کچھ نسبت نہیں۔یہ ایک شوخ دل چلا بے باک آدمی تھا جس نے گالیوں کے جوش میں نہ حضرت موسی کو چھوڑا۔اور نہ حضرت عیسی کو، نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور یہ سمجھا کہ یہ تمام سلسلہ جھوٹوں اور ناپاکوں کا سلسلہ ہے اور ان کا تمام زمانہ مکر وفریب کا زمانہ تھا۔اور صرف وید پر میشر کی طرف سے ہے اور باقی تمام توریت، انجیل ، قرآن انسانوں کے افتراء ہیں۔پس ایسا کب ہوسکتا تھا کہ خدا اپنے نبیوں کی یہ ذلت دیکھے اور چپ رہے۔پس خدا اگر چہ بہت بُردبار ہے مگر آخر اس کی غیرت نے تقاضا کیا۔کہ تمام نبیوں کی سچائی کے لئے ہندوؤں کو ایک نشان دے۔میں پھر کہتا ہوں کہ خدا نے اپنے الہام میں لیکھرام کا نام گوسالہ سامری رکھا ہے اور اب میں دیکھتا ہوں کہ اس کی حمایت میں اس قدر غلو کیا گیا ہے کہ گویا سامری کے گوسالہ کی طرح اس کی پرستش شروع ہوگئی ہے۔اس کی حمایت میں نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ جیسا کہ رہبر ہند ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں بیان کیا گیا ہے عیسائیوں کو بھی دھمکی دی جاتی ہے۔تعجب ہے کہ آریہ صاحبوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔وہ ذرہ نہیں سوچتے کہ لیکھرام کی موت آسمان کے خدا کے حکم سے ہوئی ہے جو سترہ برس پہلے نافذ ہو چکا تھا۔پھر کسی کا اس میں کیا اختیار ہے۔بے شک ہمیں بھی لیکھرام کی موت کا درد ہے اور زیادہ اس سے کہ وہ اس حالت میں گزر گیا کہ جب سچائی کا سخت دشمن تھا۔ہماری طرف سے آریہ صاحبوں کو