مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 253
مجموعہ اشتہارات ۲۵۳ جلد دوم خدائے ذوالجلال کی اتنی بے ادبی نہ کرے کہ گویا وہ موجود نہیں۔کیا جو کچھ ظہور میں آیا۔یہ انسان کا کام تھا؟ کیا انسان میں یہ طاقت ہے کہ سترہ برس پہلے خبر دے دے؟!!! یہ اعتراض عبث ہے کہ کیوں ڈپٹی آتھم پیشگوئی کے مطابق اس طریق سے نہ مرا جس سے ام مرا۔کیونکہ میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ آتھم پیشگوئی کے بعد ڈرا۔لیکن لیکھرام نہیں ڈرا۔آتھم نے حیا دکھلایا۔لیکن لیکھرام نے نہیں دکھلایا۔آتھم پیشگوئی کو سنتے ہی بے باکی اور شوخی سے باز آ گیا۔لیکن لیکھرام باز نہیں آیا۔آتھم پیشگوئی کی میعاد میں چپ ہو گیا اور اس کا دل خوف سے بھرارہا۔لیکن لیکھر ام چپ نہیں ہوا اور نہ اس کا دل خوف سے بھرا۔اس لئے وہ خدا جو دلوں کو جانچتا اور پوشیدہ خیالات کو دیکھتا ہے۔وہ اپنی شرط کے موافق آتھم سے نرمی کے ساتھ پیش آیا کیونکہ وہ ڈر نیوالے پر قہر کا پتھر نہیں چلاتا اور کانپتے بدن پر آگ نہیں برسا تا۔پس اس رحیم خدا نے آٹھم سے وہ معاملہ کیا جو ایسے ڈرنے لے آتھم کی نسبت جو پیشگوئی تھی۔اس میں یہ صاف شرط تھی کہ اگر وہ حق کی طرف رجوع کرے گا۔تو پیشگوئی کے اثر سے رجوع کی حالت میں بچ جائے گا۔چنانچہ آتھم نے پیشگوئی کی میعاد میں اسلام کی تکذیب میں ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا اور ہیبت زدہ ہو کر ڈرتا رہا جس کا اس کو خود اقرار تھا۔اور اس کا ختم نہ کھانا زیادہ صفائی سے اس اقرار کو ثابت کر رہا ہے۔اس لئے ضرور تھا کہ وہ الہام کی شرط سے فائدہ اُٹھاتا۔پھر جب اس نے میعاد کے بعد تکذیب پر منہ کھولا اور قسم سے انکار کیا اور حق کو چھپایا تو خدا نے اس کو اصرار کے وقت پکڑ لیا۔بعض نادان کہتے ہیں کہ آتھم نے میعاد کے بعد اسلام کی طرف رجوع کرنے سے انکار کیا۔ہم کہتے ہیں کہ اسی انکار کی شامت سے تو اُس کو ہمارے الہام کے موافق موت آئی۔اگر یہ انکار میعاد کے اندر کرتا تو میعاد کے اندر ہی اس کو موت آجاتی میعاد کے اندر تو چپ رہا اور ہراساں اور لرزاں رہا۔اسی لئے الہامی شرط کے موافق تاخیر ہوئی۔اگر کسی کے پاس آتھم کی ایسی تحریر موجود ہے جو پیشگوئی کی میعاد کے اندر لکھی گئی ہو جس میں اس نے اقرار کیا ہو کہ میں عیسائی ہوں اور اسلام کا مذب ہوں تو مخالفوں پر لازم ہے کہ وہ تحریر پیش کریں ورنہ میعاد گذرنے کے بعد جو کچھ اُس نے تحریر یا تقریراً انکار کیا اسی کا نتیجہ تو اس کی موت تھی۔سو اس نے انکار کے نتیجہ کو پالیا یعنی جلد مر گیا۔پھر اس کے بعد کونسی بحث باقی رہی۔غرض آتھم کی موت بالکل پیشگوئی کے موافق ہوئی۔یہ سب باتیں پیشگوئی میں درج تھیں۔پس ایسے بدیہی امر کا انکار بجز ایک بے حیا کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔منہ