مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 252
مجموعہ اشتہارات ۲۵۲ جلد دوم ۱۷ ۱۷ لیکھرام بموت قتل راہی ملک بقا ہوا ہے وہ صرف چھ برس سے نہیں ہے جیسا کہ آریوں صاحبوں کا خیال ہے بلکہ یہ پیشگوئی ستر برس سے ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔اصل بات یہ ہے کہ عرصہ سترہ ه برس کا ہوا ہے کہ براہین احمدیہ میں تین پیشگوئیاں تین مختلف فرقوں کی نسبت درج ہوئی تھیں۔اور تین فتنوں کا ذکر کیا گیا تھا۔(۱) ایک پادری صاحبوں اور ان کے شور و غوغا کی نسبت جو انہوں نے ڈپٹی آتھم صاحب کی میعاد گذرنے پر کیا۔(۲) دوسری پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں اور ان کے سرغنہ محمد حسین اور ان کے اتباع مسلمانوں کی نسبت جو انہوں نے مجھ پر تکفیر کا فتنہ برپا کیا۔(۳) تیسری پیشگوئی اس چمکدار نشان کی نسبت جو سکھرام کی موت سے وقوع میں آیا۔اور اس کے فتنہ کا ذکر۔یہ تینوں پیشگوئیاں تین فتنوں کے ساتھ ستر برس پہلے شائع ہو چکی ہیں۔پس اب سوچنا چاہیے کہ کس انسان کو یہ طاقت ہے کہ ان واقعات کی اس زمانہ میں خبر دے سکتا جبکہ ان واقعات کا نام ونشان نہ تھا۔مثلاً اسی قتل لیکھرام کی پیشگوئی کو غور سے دیکھنا چاہیے۔کیا بجز عالم الغیب خدا کے کسی کی قدرت میں ہے کہ ایسی پیشگوئی کرے جس کی میعاد چھ سال تک محدود کر دی گئی اور ساتھ اس کے حملہ کے دن کی بھی تعیین کر دی گئی اور وہ تاریخ بھی بتلائی گئی جس تاریخ میں یہ واقعہ ظہور میں آیا۔یعنی دوسری شوال جو ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء ہوتی ہے اور موت کا دن مقرر کر دیا گیا۔یعنی یہ کہ اس وفات کا دن یکشنبہ رات کا وقت ہوگا۔اور عربی الہام میں بعض جگہ صرف چھ کا لفظ بھی ہے۔وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کی موت سے چھ کے عدد کو خاص تعلق ہے۔یعنی یہ کہ وہ چھ برس کے اندرفوت ہوگا اور ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء کے دن میں اور 4 بجے میں بعد دو پہر کے حملہ ہوگا۔غرض تینوں صورتوں میں برابر ۱۷ چھ کا تعلق ہے پس کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں کہ وہ سترہ برس پہلے یعنی اس وقت کہ جب کہ یکھرام بارہ تیرہ برس کی عمر کا ہوگا یہ خبر دے دی۔بلکہ یہ اس خدا کا کام ہے جوز مین و آسمان کو بنانے والا اور عالم الغیب اور تمام مخلوقات پر تصرف کرنے والا ہے۔خدا نے لیکھرام کا نام اپنے الہام میں گوساله سامری رکھا ہے۔اور اس ایک لفظ سے ہر یک سمجھ دار کو سمجھا دیا ہے کہ گوسالہ کی حمایت کرنے والے خدا کی نظر میں کیسے ہیں اور ان کا انجام کیا ہے۔توریت موجود ہے جس نے دیکھنا ہو دیکھے اور