مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 250
مجموعه اشتہارات ۲۵۰ جلد دوم پر جیسا کہ دھمکیاں دیتے ہیں کسی نامی مسلمان کو قتل کر دیں گے یا قتل کا اقدام کریں گے تو اس جوش کا کیا حال ہوگا جو مسلمانوں میں ہندوؤں کے مقابل پر پیدا ہو سکتا ہے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ اب تک مسلمانوں نے بہت صبر کیا ہے۔ انہوں نے بہت سی گندی گالیاں اس فرقہ کی سنیں اور اشتہار دیکھے مگر وہ چپ رہے۔ لیکن آخر وہ بھی انسان ہیں ۔ کیا تعجب کہ بہت دُکھائے جانے سے اُن میں بھی اشتعال پیدا ہو! پس کیا حفظ ما تقدم کے طور پر اس کا تدارک ضروری نہیں ہے؟!! میں اس وقت خاص طور پر ایک اور بات کی طرف گورنمنٹ کو توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اخبار آفتاب هند مطبوعہ ۱۸ مارچ ۱۸۹۷ء کے صفحہ ۵ پہلے کالم میں ایک صاحب ہندو ایم آر بشیشر داس میری نسبت ایک مضمون لکھتے ہیں جس کا عنوان یہ مرزا قادیانی خبردار اور پھر تحریر فرماتے ہیں کہ ”مرزا قادیانی بھی امروز فردا کا مہمان ہے ۔ بکرے کی ماں کب تک خیر منا سکتی ہے ۔ آج کل اہل ہنود کے خیالات مرزا قادیانی کی نسبت بہت بگڑے ہوئے ہیں بلکہ عموماً مسلمانوں کی بابت ۔ پس مرزا قادیانی کو خبر دار رہنا چاہیے کہ وہ بھی بکر عید کی قربانی نہ ہو جاوے۔“ وو اور پھر اخبار رہبر ہند ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں صفحہ ۱۴ پہلے کالم میں لکھا ہے۔ ” کہتے ہیں کہ ہندو قادیان والے کو قتل کر آئیں گے۔ اور یہ بھی افواہ ہے کہ علیگڑھ والے بوڑھے کا بھی خاتمہ کیا جائے گا“۔ اور اس بارے میں جس قدر خط مجھ کو پہنچے ہیں۔ اُن کا اس وقت لکھنا ضروری نہیں ۔ وہ خط محفوظ ہیں۔ اب گورنمنٹ عالیہ سے جو خاص التماس ہے وہ یہ ہے کہ ایسے ارادے اگرچہ بظاہر ایک شخص کی نسبت ہوں مگر چونکہ وہ ایک مذہبی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں اس لئے اُن کا شروع ہونا عام طور پر فساد پھیلنے کی ایک بنیاد سجھی جاتی ہے۔ قادیان ایک ایسی جگہ ہے جو بجز چند چوکیداروں کے گورنمنٹ کی طرف سے اس میں کوئی تھا نہ یا چوکی نہیں ۔ یہ بات نہایت ضروری ہے کہ اس وقت گورنمنٹ عالیہ سرکاری انتظام کی نیت سے جس قدر مناسب سمجھے چند سپاہی مسلمانوں میں سے قادیان میں اس وقت تک متعین کرے جس وقت تک آریہ صاحبوں کی آنکھیں نیلی پیلی معلوم ہوتی ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ جیسے بشیشر داس نے آفتاب ہند میں صاف طور پر میری نسبت لکھ دیا ہے کہ آریہ صاحب بکر عید تک اُن کے قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور نیز رہبر ہند نے بھی لکھا ہے۔ ایسی قطعی