مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 249

مجموعہ اشتہارات ۲۴۹ جلد دوم مسلمان کا فرض ہے چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زر کثیر چھاپ کر بلا د اسلام میں پہنچائی ہیں۔اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے۔اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں۔وہ ایک ایسی جماعت طیار ہوتی جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔اُن کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لیے بڑی برکت ہیں اور گورنمنٹ کے لئے دلی جان شار۔اب اس تمہید کے بعد میں اصل مطلب کو لکھتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ جب سے لیکھر ام پیشاوری جو آریہ صاحبوں کا ایک واعظ تھا۔لاہور میں کسی کے ہاتھ سے قتل کیا گیا ہے۔عجیب طرح پر آریوں اور ہندوؤں کا شور و غوغا عام مسلمانوں کی نسبت عموماً اور میری نسبت خصوصاً پھیل رہا ہے۔اور بغیر کسی ثبوت کے کھلے کھلے طور پر قتل کی تہمتیں میری نسبت لگا رہے ہیں۔اور اُن کی تیز تحریروں سے پایا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسے حملہ کی طیاری کر رہے ہیں جو نہ صرف میرے لئے بلکہ عام مسلمانوں کے لئے اور گورنمنٹ کے انتظام کے لئے خطر ناک ہے۔اور اخبارات اور خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مفسدانہ ارادوں کے بانی مبانی صرف چند آدمی ہیں۔جو لاہور، اور گوجرانولہ اور امرت سر اور بٹالہ اور چند دوسرے قصبوں کے باشندے ہیں۔غالب وہ اپنی تعداد میں پچاس سے زیادہ نہیں ہوں گے اور باقی لوگ درحقیقت انہیں سرغنوں کے افروختہ ہیں اور انہیں کی بھڑکائی ہوئی آگ کے شعلے ہیں۔جس وقت میں خیال کرتا ہوں کہ ان دنوں میں یہ آریہ صاحبان عام مسلمانوں کو کیا کیا دھمکیاں کے رہے ہیں اور جیسا کہ اخبار رہبر ہند ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں افواہ بیان کیا گیا ہے۔پشاور کے سکھوں کی پلٹنوں کو کس طور سے اغوا کرنے کے لئے کوشش کی گئی ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت سرکا را نگریزی کا بڑا فرض ہے کہ قبل اس کے جو اس ارادہ فساد کا کوئی خطرناک اشتعال پیدا ہو اپنی احسن تدبیر سے اس کو روک دے۔گورنمنٹ کو یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ آریہ صاحبان اس وقت نرمی اور دلجوئی اور حکمت عملی کے نیک سلوک سے امن کے طالب ہو جائیں گے۔بلکہ اس وقت سیاست مدنی کے قوانین کو پورے طور پر استعمال کرنا عین علاج ہے۔یہ سوچنے کا مقام ہے کہ جبکہ آریہ صاحبوں میں ایک جھوٹے اور ناحق کے الزام پر جو مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے اس قدر جوش پیدا ہو گیا ہے۔پھر اگر یہ لوگ واقعی طور