مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 8

مجموعہ اشتہارات جلد دوم پڑے گا اس لئے میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اس اشتہار کے ذریعہ سے بعض واقف کار آریہ صاحبوں سے بحث کرلوں اور پھر اس مسئلہ کو اپنی کتاب میں لکھوں یا اگر وہ مجھے اس کی معقولیت بقیہ حاشیہ۔دوسری کتابیں جو آسمانی کہلاتی ہیں اگر مان بھی لیں کہ کوئی ان میں سے خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی تو وہ ایک قانون مختص القوم کی طرح یا مختص الوقت کی طرح صرف چند روزہ مصلحت کیلئے آئی ہوگی۔لھذا جیسا کہ وہ خود ناقص تھیں ایسی ناقص بولی میں اتریں۔مگر کامل کتاب کے لئے کامل بولی میں اترنا ضروری تھا کیونکہ کامل اور ناقص کا پیوند درست بیٹھ نہیں سکتا لہذا قرآن شریف عربی زبان میں اتر اجواپنے ہر ایک پہلو کے رو سے کامل ہے۔غرض من الرحمن کو ہم نے اس مدعا سے تالیف کیا ہے کہ تا کامل بولی کے ذریعہ کامل کتاب کا ثبوت دیں اسی وجہ سے ہم نے اس کتاب کے ساتھ پانچ ہزار روپیہ کا اشتہار بھی دیا ہے جو شخص چاہے ہم سے پہلے روپیہ جمع کرالے اگر وہ ثابت کر دیوے کہ وہ دلائل جو اس طرف سے عربی زبان کے اُم الالسنہ اور وحی اللہ ہونے کے بارے میں پیش کئے گئے ہیں ایسے دلائل یا ان سے بہتر کسی اور زبان کے بارے میں پیش ہو سکتے ہیں تو وہ پانچ ہزار روپیہ جو جمع کرایا جائے گا اس کا ہوگا۔یہ اشتہار صرف کہنے کی بات نہیں بلکہ ہماری طرف سے یہ ایمانی اقرار ہے کہ ہر یک ایسا شخص جو مقابلہ کرنے کے لئے علمی لیاقت رکھتا ہو یعنی اگر وہ انگریزی کا حامی ہے تو انگریزی دان ہو اور اگر سنسکرت کا حامی ہے تو سنسکرت دان ہو اس کی درخواست آنے کے وقت نقد پانچ ہزار روپیدایسی جگہ جمع کرا دیا جائے گا جو اس کی مرضی کے مطابق اور قرین انصاف ہو غرض یہ اس کا حق ہوگا کہ ہر طرح سے پوری تسلی کر لے ہاں اس پر یہ لازم ہوگا کہ ہمارا تحریری اقرار نامہ لے کر اپنی طرف سے بھی یہ اقرار نامہ لکھ دے کہ اگر وہ ایک مدت مقررہ تک جس کا تصفیہ بعد میں ہو جائے گا مقابلہ پر کچھ نہ لکھے یا ایسا لکھے جو منصفوں کی نظر میں بیچ ہو تو اس مدت تک وہ تجارت کے کام کا روپیہ جو اس کے انتظار پر بندر ہے گا اس کا مناسب ہرجانہ اس کو دینا ہوگا اوریہ روپیہ منصفوں کی ڈگری دینے سے اس شخص کو مل جائے گا جو اپنی زبان کو فضائل خاصہ غالبہ کی رو سے اُم الالسنہ ثابت کرے اور اس کا اختیار ہوگا کہ باضابطہ رسید کے ذریعہ سے وہ تمام روپیہ منصفوں کے پاس ہی جمع کرا دیوے اور ہم اس بات کو بدل قبول کرتے ہیں کہ اس فیصلہ کے لئے مسلمانوں میں سے کوئی منصف نہ ہو بلکہ اگر مثلاً یہ نزاع آریہ صاحبوں کی طرف سے ہو تو ہمیں منظور ہے کہ منصف دو شریف اور فاضل آریہ اور دو معزز اور لائق عیسائی انگریز ہوں اور کثرت رائے پر فیصلہ ہومگر اس شرط سے کہ وہ کثرت رائے حلف کے ساتھ موکد ہو۔اور اگر یہ نزاع بعض پادری صاحبوں کی طرف سے ہو تو ایسا انہیں بھی اختیار ہے کہ اپنے منصف دو عیسائی اور دو اور شخص جو رائے ظاہر کرنے کے قابل ہوں مقرر کر لیں ہمیں یہ تقرری بہر حال منظور ہوگی کچھ بھی عذر نہیں ہو گا۔• منه