مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 221
مجموعہ اشتہارات ۲۲۱ جلد دوم کرے گا اور اس پیشگوئی کے لئے ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء سے ۶ برس کی میعاد مقرر ہوئی تھی۔سو آج آریہ صاحبوں کے ایک اشتہار سے یہ خبر ملی ہے جو پنڈت مذکورے مارچ ۱۸۹۷ء کو دھرم پر بلیدان ہو گیا۔اگر چہ انسانی ہمدردی کی رُو سے ہمیں افسوس ہے کہ اس کی موت ایک سخت مصیبت اور آفت اور نا گہانی حادثہ کے طور پر عین جوانی کے عالم میں ہوئی لیکن دوسرے پہلو کی رُو سے ہم خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں جو اُس کے مونہہ کی باتیں آج پوری ہو گئیں۔ہمیں قسم ہے اُس خدا کی جو ہمارے دل کو جانتا ہے کہ اگر وہ یا کوئی اور کسی خطرہ موت میں مبتلا ہوتا اور ہماری ہمدردی سے وہ بیچ سکتا تو ہم کبھی فرق نہ کرتے۔کیونکہ خدا کی باتیں بجائے خود اپنے لئے ایک وقت رکھتی ہیں۔مگر انسان کو چاہیے کہ انسانی اخلاق اور انسانی ہمدردی سے کسی حالت میں در گذر نہ کرے کہ یہی اعلیٰ درجہ خلق کا ہے۔مگر نہ ہم اور نہ کوئی اور خدا کی قرار دادہ باتوں کو روک سکتا ہے۔اس وقت مناسب ہے کہ ہمارے سب مخالف اپنے دلوں کو پاک کر کے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء اور اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء جو آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ شامل ہے اور اشتہار نائٹل پیج برکات الدعاء وغیرہ کو دلی توجہ سے پڑھیں اور پاک دل ہو کر سوچیں کہ کیونکر اس موت کا خدا تعالیٰ نے پہلے نقشہ کھینچ کر دکھا دیا ہے۔دیکھو دنیا میں کیسی وبائے طاعون شروع ہو گئی ہے۔یہ غفلت اور سخت دلی کی شامت ہے۔اب ہر یک قوم کو چاہیے کہ عمل صالح میں کوشش کریں اور واہیات باتیں چھوڑ دیں۔میں دیکھتا ہوں کہ چونکہ آتھم کی موت بالکل پیشگوئی کے مطابق ہوئی تھی اور خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ شرط کے لحاظ سے بروئے اشتہارات متواتر الہامات کے موافق وہ فوت ہو گیا تھا اور اہل نظر کے لئے قابل اطمینان صفائی کے ساتھ وہ پیشگوئی پوری ہو گئی تھی مگر اب تک بعض نے محض ہٹ دھرمی سے اپنی ضد کو نہیں چھوڑا تھا اور میری عداوت سے اسلام کی تحقیر کی بھی کچھ پرواہ نہیں کی تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ان کی موٹی عقلوں کے موافق ان پر اتمام حجت کرے۔سو یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے لے دیکھئے مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۴۰۵۔اشتہار نمبر ۱۰۱ (مرتب)