مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 218
مجموعہ اشتہارات ۲۱۸ جلد دوم یعنی لعنت کا مفہوم یہ ہے کہ لعنتی اس کو کہتے ہیں جو ہر یک خیر وخوبی اور ہر قسم کی ذاتی صلاحیت اور خدا کی رحمت اور خدا کی معرفت سے بکلی بے بہرہ اور بے نصیب ہو جائے اور ہمیشہ کے عذاب میں پڑے یعنی اس کا دل بکلی سیاہ ہو جائے اور بڑی نیکی سے لے کر چھوٹی نیکی تک کوئی خیر کی بات اس کے نفس میں باقی نہ رہے اور شیطان بن جائے اور اس کا اندر مسخ ہو جائے یعنی کنتوں اور سوروں اور بندروں کی خاصیت اس کے نفس میں پیدا ہو جائے اور شماخ نے ایک شعر میں لعنتی انسان کا نام بھیٹریا رکھا ہے۔اس مشابہت سے کہ لعنتی کا باطن مسخ ہو جاتا ہے۔تم كَلَامُهُمُ۔ایسا ہی عرف عام میں بھی جب یہ بولا جاتا ہے کہ فلاں شخص پر خدا کی لعنت ہے تو ہر ایک ادنی اعلیٰ یہی سمجھتا ہے کہ وہ شخص خدا کی نظر میں واقعی طور پر پلید باطن اور بے ایمان اور شیطان ہے اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے روگردان ہے۔اب اعتراض یہ ہے کہ جس حالت میں لعنت کی حقیقت یہ ہوئی کہ ملعون ہونے کی حالت میں انسان کے تمام تعلقات خدا سے ٹوٹ جاتے ہیں اور اُس کا نفس پلید اور اُس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی روگردانی اختیار کرتا ہے اور اُس میں اور شیطان میں ذرہ فرق نہیں رہتا تو اس وقت ہم حضرات پادری صاحبوں سے بکمال ادب یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے کہ در حقیقت یہ لعنت اپنے تمام لوازم کے ساتھ جیسا کہ ذکر کیا گیا یسوع پر خدا تعالیٰ کی طرف سے پڑگئی تھی اور وہ خدا کی لعنت اور غضب کے نیچے آکر سیاہ دل اور خدا سے روگردان ہو گیا تھا۔میرے نزدیک تو ایسا شخص خود لعنتی ہے کہ ایسے برگزیدہ کا نام لعنتی رکھتا ہے۔جو دوسرے لفظوں میں سیاہ دل اور خدا سے برگشتہ اور شیطان سیرت کہنا چاہیے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسا پیارا در حقیقت اس لعنت کے نیچے آ گیا تھا جو پوری پوری خدا کی دشمنی کے بغیر تحقیق نہیں ہوسکتی۔کیونکہ لعنت کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ خدا لعنتی انسان کا واقعی طور پر دشمن ہو جائے اور ایسا ہی لعنتی انسان خدا کا دشمن ہو جائے اور اس دشمنی کی وجہ سے بندروں اور سؤروں اور کتوں سے بدتر ہو جائے کیونکہ بندر وغیرہ خدا تعالیٰ کے دشمن نہیں ہیں۔لیکن لعنتی انسان خدا تعالیٰ کا دشمن ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی لفظ اپنے لوازم سے الگ نہیں ہوسکتا جب ہم ایک کو سیاہ دل اور شیطان یا