مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 216

مجموعہ اشتہارات ۲۱۶ جلد دوم ثبوت کے محتاج ہیں۔پھر کیا مناسب تھا کہ ثبوت رؤیت کے مقابلہ پر ایسے قصوں کو پیش کیا جاتا۔اگر کہو کہ قرآن شریف میں عیسی علیہ السلام کے معجزات کا ذکر آیا ہے۔سو واضح رہے کہ قرآن شریف کوئی تاریخی کتاب نہیں اور نہ اس نے کسی تاریخی کتاب سے ان قصوں کو نقل کیا ہے بلکہ اس کی تمام باتیں اس کی الہامی سچائی کی بنیاد پر مانی جاتی ہیں۔سو وہ جس الہام کے ذریعہ سے حضرت عیسی کے معجزات کا ذکر کرتا ہے اسی الہام کے ذریعہ سے یہ بھی بیان کرتا ہے کہ عیسی صرف انسان تھا خدا نہیں تھا اور آنے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مصدق تھا مکذب نہیں تھا۔پس اگر قرآن کی وحی پر اعتماد اور ایمان ہے تو پھر کوئی جھگڑا نہیں۔ہم قرآن کی الہامی گواہی سے مانتے ہیں کہ عیسی بن مریم ایک صالح آدمی اور پیغمبر تھا۔اس نے کبھی خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور آنے والے رسول پر اس کو ایمان تھا اور وہ صاحب معجزات تھا۔مگر یادر ہے کہ یہ گواہی الہامی ہے نہ تاریخی۔جو شخص قرآن کے الہام کو نہیں مانتا اس کے نزدیک یہ سب گواہی کالعدم ہے۔اور جو مانتا ہے وہ قرآن کے سارے بیان کو مانتا ہے اگر ایمان نہیں تو یہ حوالہ بے کار ہے پس جو شخص قرآن کی وحی سے انکار کرتا ہے وہ قرآن کی شہادت سے کچھ نفع نہیں اٹھا سکتا۔ہم نے جیسا کہ قرآن کی اس وحی کو قبول کیا ہے کہ عیسی علیہ السلام سے معجزات ظاہر ہوئے ایسا ہی اس وحی کو بھی قبول کیا ہے کہ وہ محض بندے اور خدا کے رسول اور ہمارے نبیؐ کے مصدق تھے اور قرآن کی شہادت کی قدرو قیمت اس وقت تک ہے کہ جب اس کو خدا کی وحی سمجھی جاوے۔پس جو شخص اس وجی کو مانتا ہے وہ اس کی ساری باتیں مانتا ہے۔وحی کے ایک حصہ کو مانا اور دوسرے کو رد کرنا دیانت داروں کا کام نہیں۔ہمارا جھگڑا اس یسوع کے ساتھ ہے جو خدائی کا دعوی کرتا ہے نہ اس برگزیدہ نبی کے ساتھ جس کا ذکر قرآن کی وحی نے معہ تمام لوازم کے کیا ہے۔راقم خاکسار غلام احمد قادیانی ۲۸ فروری ۱۸۹۷ء ید اشتہار ضمیمه اخبار مخبر دکن مدراس کے ایک صفحہ پر ہے ) تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۲۸ تا ۳۲)