مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 207
مجموعہ اشتہارات ۲۰۷ جلد دوم عیسی باہر آئیں گے۔لیکن جو انہوں نے بیان فرمایا ہے کہ خسوف و کسوف رمضان میں ایک ہی وقت میں ہوگا اور مہدی موعود کا یہی نشان ہے۔یہ جو ان دنوں واقع ہوا ہے یہ ایسی عجیب تقریر ہے کہ بہتر تھا کہ وہ اسے عجائب خانہ میں بھجوا دیتے تاکہ غمناک لوگوں کے لئے ہنسی کا ذریعہ ہوتا۔اور اس میں عجیب بات نہیں ہے کہ کوئی حدیث یا صحیح روایت اس کے ساتھ نہیں ہے۔اور دوسرا تعجب یہ ہے کہ ہیئت دانی کے دعوے کے باوجود یہ مذاق کی باتیں اور نادانی ہے اور دوستوں نے ہمیں ملزم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ آپ کو علم ہیئت سے کچھ تعلق نہیں ہے۔پس ان کے اس بیان پر کہ ایک ہی وقت خسوف اور کسوف جمع ہوں گے اس امر پر شاہد ناطق ہے کہ انہیں شیخ الاسلام کے کمالات اور فن ہیئت میں بھی دستگاہ عظیم حاصل ہے۔اے بندہ خدا ! رحمک اللہ یہ ہیئت جدید آپ کہاں سے لائے ہیں نہ تو سقراط کو اس کی خبر تھی اور نہ فیثا غورث کو۔بچہ بچہ جانتا ہے کہ کسوف آفتاب کے ایام ۲۷، ۲۸ اور ۲۹ قمری مہینے کے ہیں۔اور خسوف قمر کی راتیں ۱۴۱۳ اور ۱۵ قمری مہینے کی ہیں اور یہ وقت قانون قدرت میں مقرر ہے۔پس علم ہیئت کے لحاظ سے ایک ہی وقت میں ان کا اجتماع کیسے ممکن ہے۔غرض آپ کے علم ہیئت کا یہ قاعدہ ایسا عجیب ہے کہ جس پر نہ ہمیں بلکہ کسی دوسرے ہیئت دان کو بھی اطلاع نہیں ہے۔علم ہیئت کا دعوی کرنا خوب اور پھر اس کے خلاف کہنا بھی خوب ہے۔دعویٰ علم اور ہیئت دانی کیا خوب ہے۔جانا چاہیے کہ یہ حدیث دار قطنی کی ہے اور اس میں یہ خرافات درج نہیں ہیں جنہیں یہ بیان کرتے ہیں۔بلکہ اسی قدر ہے کہ چاند اپنی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات کو گہنایا جائے گا اور آفتاب گرہن کے مقررہ دنوں میں درمیانے دن گہنایا جائے گا اور اس میں دو شرطیں ہوں گی پہلی یہ کہ چاند اور سورج دونوں کا گرہن رمضان میں ہوگا اور دوسری یہ کہ یہ دونوں کسی مدعی مہدویت کے صدق کے نشان کے طور پر ہوں۔یعنی اس وقت یہ دونوں نشان ظہور میں آئیں گے۔اس لئے کہ مہدی کی تکذیب ہوگی اور یہ ہیئت کذائی کہ رمضان میں خسوف و کسوف جمع ہو جائے اور ایک مدعی مہدویت اس وقت موجود ہو۔یہ ایک ایسا اتفاق ہے کہ حضرت آدم سے لے کر میرے زمانہ تک مجھ سے پہلے کسی