مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 201
مجموعہ اشتہارات ترجمه از مرتب ۲۰۱ جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ اشتہار واجب الاظہار اس وقت دو عدد خط بعض شیعہ صاحبان کی طرف سے مجھے پہنچے ہیں۔اور اس میں انہوں نے ظاہر کیا ہے کہ ان کے بزرگوں میں سے ایک بزرگ موسوم حاجی شیخ محمد رضا طہرانی نجفی ان دنوں لاہور وارد ہوئے ہیں اور اس طرف یعنی میرے ساتھ بحث و مناظرہ کی آرزور کھتے ہیں۔لیکن یہ کچھ معلوم نہیں ہوا کہ اس بزرگ کو کونسا مانع پیش آیا کہ اس نے بلا واسطہ ہم سے خط و کتابت نہیں کی اور توسط کے حجاب کو درمیان سے نہیں اٹھایا۔ٹھیک ہے اگر اس نے یہ کام نہیں کیا ہم کرتے ہیں اور مناسب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ہمیں پہنچایا ہے ہم بطور تبلیغ ان کو پہنچاتے ہیں۔اگر اس کے بعد انہیں کوئی حجاب یا شک باقی رہے وہ اختیار رکھتے ہیں کہ وہ بچے دل سے اس جگہ آئیں اور طالبان حق کی طرح اپنے وساوس کو دور کروائیں گے لے مرسلہ خط میں یہ لفظ طنزیہ اور متکبرانہ انداز میں ہم پاتے ہیں کہ اس طرح کے لوگ جو معقول باتوں سے بھی بے بہرہ ہیں اور شیخ الاسلام سے مخاطب ہونے کے لائق نہیں ہیں۔حالانکہ ایسے لوگوں کی شان میں حضرت شیخ » کے الفاظ کسر شان کے برابر ہیں۔مگر الحمد للہ کہ معقول پسندی کیا ہے شیخ صاحب کے نزدیک یہ بات ہمیں اس خط سے معلوم ہوئی ہے۔وہ شخص کہ جو کسوف و خسوف شمس و قمر کو ساعت واحد میں جمع کرتا ہے اور قرآنی علوم میں اپنی نظیر نہیں رکھتا یعنی اس آیت کے بارے میں یہ کہ سورج کے لئے مناسب نہیں کہ وہ چاند کو پا سکے۔خدا نہ کرے کہ وہ معقولات کا حصہ اور نصیبہ رکھتا ہو۔سے یادر ہنا چاہیے کہ ہم نے انکار کرنے والوں کے لئے اتمام حجت کر دیا ہے۔اس کے بعد اب کسی مناظرہ کی ضرورت نہیں رہی۔ہاں ہر حق کے طالب کو اختیار ہے شیخ ہو یا شاب ( یعنی کوئی بڑا عالم ہو یا چھوٹا ) کہ وہ ہمارے پاس صدق دل سے آئے اور اپنے شکوک دور کرے ہم اس جگہ ہزاروں طالبان حق کا مرجع ہیں۔ہم حرکت نہیں کر سکتے۔ہر شخص جو طلب حق رکھتا ہے وہ آئے بفضل خدا وہ تسلی و تشفی پائے گا۔