مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 187
مجموعہ اشتہارات ۱۸۷ جلد دوم اس سے معجزہ مانگا تو کانوں پر ہاتھ رکھل لیا کہ میں معجزہ نہیں دکھلاؤں گا۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی کیمیا گر اور جن دکھلانے والے اور غیب سے روپیہ منگانے والے ایسے ہی ہتھکنڈے کرتے پھرتے ہیں۔اور یسوع کی طرح بے وقوفوں اور احمقوں کو سب کچھ دکھلا دیتے ہیں۔لیکن اگر کبھی کسی دانا کے پنجہ میں پھنس جائیں تو فی الفور سمجھ جاتے ہیں کہ اب شاید فریب ظاہر ہو کر چند سال کے جیل خانہ میں جائیں گے۔اس وقت صاف منکر ہو جاتے ہیں کہ نہ ہمیں کیمیا معلوم ہے اور نہ ہمارے جن تابع ہیں اور نہ ہمیں کوئی دست غیب یاد ہے۔افسوس صد افسوس کہ یسوع کی تمام زندگی انہیں باتوں میں گذری۔جو کبھی کراماتی بنے اور کبھی آزمانے والوں کی زیر کی دیکھ کر کرامات سے منکر ہوئے۔خدا بن کر یہ بزدلی یہ دورنگی اور یہ مکروفریب، یہ کیسا خدا تھا۔علاوہ اس کے اگر معجزہ کے ساتھ کوئی شخص خدا بن سکتا ہے تو موسیٰ" کے معجزات میں یسوع سے صدہا مرتبہ زیادہ شوکت و عظمت پائی جاتی ہے۔اور یسوع خود مانتا ہے کہ جھوٹے نبی اقتداری معجزات دکھلائیں گے۔اگر اقتداری معجزات دکھلانے والا جھوٹا اور بدمعاش ہوتا ہے تو یسوع کے حق میں کیا کہیں اور کیا لکھیں۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ یسوع بیچارہ پر خدائی کی تہمت ہے۔عیسائیوں کی مشرکانہ تعلیم کا تمام مدارس شریر انسان کی باتوں پر ہے جس کا نام پولس تھا۔اس کے عیسائی ہونے کا یہ سبب تھا کہ یہ شخص سردار کا ہن کی لڑکی پر عاشق ہو گیا تھا مگر سردار کا ہن نے اس کولٹر کی نہ دی۔تب اس نے عہد کیا کہ میں یہودیوں کو بہت خراب کروں گا۔اور وہیں اس نے ایک جھوٹا خواب بنایا کہ گویا اس کو یسوع نظر آ گیا اور اس طرح عیسائیوں میں اپنی جمعداری قائم کرلی۔بہر حال خوب سوچو اور سمجھو کہ سچے مذہب کا خدا ایسا مطابق عقل اور نور فطرت چاہیے کہ جس کا وجود ان لوگوں پر بھی حجت ہو سکے جو عقل تو رکھتے ہیں مگر ان کو کتاب نہیں ملی۔غرض وہ خدا ایسا چاہیے جس میں کسی زبر دستی اور بناوٹ کی بو نہ پائی جائے سو یاد رہے کہ یہ کمال اس خدا میں ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے اور دنیا کے تمام مذہب والوں نے یا تو اصل خدا کو بالکل چھوڑ دیا ہے جیسا کہ عیسائی اور یا نا واجب صفات اور اخلاق ذمیمہ اس کی طرف منسوب کرا دیئے ہیں جیسا کہ یہودی