مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 184
مجموعه اشتہارات ۱۸۴ جلد دوم فی الواقع وہ روشنی عطا کی کہ اندھیری رات کو دن بنا دیا۔ اس کی پہلی دنیا کیا تھی۔ اور پھر اس کے آنے کے بعد کیا ہوئی۔ یہ ایک سوال نہیں ہے جس کے جواب میں کچھ دقت ہو۔ اگر ہم بے ایمانی کی راہ اختیار نہ کریں تو ہمارا کانشس ضرور اس بات کے منوانے کے لئے ہمارا دامن پکڑے گا کہ اس جناب عالی سے پہلے خدا کی عظمت کو ہر ایک ملک کے لوگ بھول گئے تھے اور اس سچے معبود کی عظمت او تاروں اور پتھروں اور ستارں اور درختوں اور حیوانوں اور فانی انسانوں کو دی گئی تھی اور ذلیل مخلوق کو اس ذو الجلال و قدوس کی جگہ پر بٹھایا تھا۔ اور یہ ایک سچا فیصلہ ہے کہ اگر یہ انسان اور حیوان اور درخت اور ستارے در حقیقت خدا ہی تھے جن میں سے ایک یسوع بھی تھا تو پھر اس رسول کی کچھ ضرورت نہ تھی لیکن اگر یہ چیزیں خدا نہیں تھیں تو وہ دعوی ایک عظیم الشان روشنی اپنے ساتھ رکھتا ہے جو حضرت سیدنا ا محمد محمد صلی الله علیہ وسلم نے مکہ کے پہاڑ پر کیا تھا۔ وہ کیا دعوی تھا۔ وہ یہی تھا کہ آپ نے فرمایا کہ خدا نے دنیا کو شرک کی سخت تاریکی میں پاکر اس تاریکی کو مٹانے کے لئے مجھے بھیج دیا۔ یہ صرف دعوی نہ تھا بلکہ اس رسول مقبول نے اس دعوی کو پورا کر کے دکھلا دیا ۔ اگر کسی نبی کی فضیلت اس کے ان کاموں سے ثابت ہو سکتی ہے جن سے بنی نوع کی سچی ہمدردی سب نبیوں سے بڑھ کر ظاہر ہو تو اے سب لوگو اٹھو، اور گواہی دو کہ اس صفت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ۔ یسوع نے زبان سے تو بہت کچھ کہا مگر عملی طور پر کسی خرابی کے زہر یلے درخت کو دنیا سے نہیں کاٹا۔ اگر ہم مان بھی لیں کہ اس نے کم عقل عورتوں اور بچوں کی طرح خودکشی کی تو اس سے اور بھی زیادہ اس کی حالت پر افسوس آئے گا کہ اگر ہمدردی کی اس کو کچھ سوجھی بھی تو احمقانہ راہ سوجھی۔ اندھے مخلوق پرستوں نے اس بزرگ رسول کو شناخت نہیں کیا۔ جس نے ہزاروں نمونے سچی ہمدردی کے دکھلائے لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ وقت پہنچ گیا ہے کہ یہ پاک رسول شناخت کیا جائے ۔ چاہو تو میری بات کو لکھ رکھو کہ اب کے بعد مردہ پرستی روز بروز کم ہوگی یہاں تک کہ نابود ہو جائے گی کیا انسان خدا کا مقابلہ کرے گا ۔ کیا نا چیز قطرہ خدا کے ارادوں کو رڈ کر دے گا۔ کیا فانی آدم زاد کے منصوبے الہی حکموں کو ذلیل کر دیں گے۔اے سننے والو سنو اور اے سوچنے والو سوچو اور یا درکھو کہ حق ظاہر ہوگا اور وہ جو سچا نور ہے چمکے گا۔ یہ سخت ظلم کیا گیا ہے جو