مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 177
مجموعہ اشتہارات 162 جلد دوم اب حاصل کلام یہ ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے الہام کے موافق ایک سال کا وعدہ کرتا ہوں۔اگر مولوی صاحب کے نزدیک یہ وعدہ خلاف سنت ہے تو کوئی ایسی صحیح حدیث پیش کریں جس سے سمجھا جائے کہ فوری عذاب مباہلہ کے لئے شرط ضروری ہے یعنی یہ کہ فورا کا ذب یا مکذب کے صدق کا اثر فریق ثانی پر ظاہر ہو۔حضرت مولوی غلام دستگیر صاحب کو کا فر بنانے کا بہت ہی شوق ہے۔لہذا ہم ان کو خوشخبری دیتے ہیں کہ اب عبد الحق غزنوی کے مباہلہ کے بعد آٹھ ہزار تک ہماری جماعت پہنچ گئی ہے گویا امت محمدیہ میں سے آٹھ ہزار آدمی کا فر ہو کر اس دین سے خارج ہو گیا۔یقین ہے کہ آئندہ سال تک اٹھاراں ہزار تک عدد پہنچ جاوے گا۔بالآ خر یاد ہے کہ مولوی صاحب موصوف نے اول ایک سال کا وعدہ اپنے خطوط میں قبول کر لیا تھا مگر یہ شرط کی تھی کہ تمام جہان کے مسلمان جو آپ کے دعوی کو نہیں مانتے مر جائیں۔اب اس اشتہار میں مولوی صاحب نے تمام جہان کی جان بخشی کی اور بجائے اس کے نفس کے لئے فوری عذاب پیش کر دیا۔یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کے نزدیک ضرورت کے وقت کذب کا استعمال بھی جائز ہے۔بھلا ہم حضرت موصوف سے دریافت کرتے ہیں کہ کب اور کس وقت میرے دوست مولوی حکیم فضل دین صاحب آپ سے ڈر کر قادیان میں بھاگ آئے تھے۔کیا آپ نے حکیم صاحب موصوف کو خود نہیں لکھا تھا کہ میں تم سے خطاب نہیں کرنا چاہتا۔براہ راست خود خط لکھوں گا۔خیر ہمیں اس کذب پر کچھ افسوس بھی نہیں۔جب آپ نے ہمیں انفر بنایا۔بے دین بنایا۔دجال بنایا۔تکفیر کے لئے حرمین تک وہ تکلیف اٹھائی کہ بچارے شیخ بطالوی کو بھی نہ سوجھی تو یہ کذب تو ایک ادنی بات ہے۔جزاک اللہ ! الراقم میرزا غلام احمد قادیانی مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیان ( یہ اشتہار " کے دو صفحہ پر ہے) ۲۰ شعبان ۱۳۱۴ھ تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۱ تا ۴ )