مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 176
مجموعہ اشتہارات جلد دوم اگر مباہلہ کے لیے فور اعذاب نازل ہونا شرط ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حول کا لفظ مونہہ سے نہ نکالتے کیونکہ اس صورت میں کلام میں تناقض پیدا ہو جاتا ہے۔ہاں یہ بات صحیح اور درست ہے کہ اگر مولوی غلام دستگیر صاحب مباہلہ میں کا ذب اور کافر اور مفتری پر بمقابلہ مومن اور راستباز کے فوری عذاب نازل ہونا ضروری سمجھتے ہیں تو بہت خوب ہے۔وہ اپنا فوری عذاب ہم پر نازل کر کے دکھلاویں۔ان کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ”میں تو نبوت کا مدعی نہیں کہ تا فوری عذاب نازل کروں ان پر واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کے قائل ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمد یہ اور باتباع آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم اولیاء اللہ کو ملتی ہے اس کے ہم قائل ہیں اور اس سے زیادہ جو شخص ہم پر الزام لگاوے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑتا ہے۔اور اگر قرآنی الہامات سے کوئی کا فر ہو جاتا ہے تو پہلے یہ فتوی کفر سید عبدالقادر رضی اللہ عنہ پر لگانا چاہیے کہ انہوں نے بھی قرآنی الہامات کا دعوی کیا ہے۔غرض جبکہ نبوت کا دعویٰ اس طرف بھی نہیں صرف ولایت اور مجددیت کا دعوی ہے۔اور مولوی غلام دستگیر صاحب مجھ کو باوجود کلمہ گو اور اہل قبلہ ہونے کے کا فرٹھیراتے ہیں اور اپنے تئیں مومن قرار دیتے ہیں جو قرآن شریف کے بیان کے موافق ولی اللہ ہوتا ہے اور شیخ محمد حسین بطالوی کے فتویٰ میں ان تمام علماء نے مجھے اکفر قرار دیا ہے یعنی یہ شخص کفر میں یہود اور نصاریٰ سے بڑھ کر ہے۔پھر جس حالت میں نجران کے نصاریٰ کو فوری عذاب کا وعدہ دیا گیا تھا تو مولوی صاحب جو عالم اسلام ہوکر بزعم خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ان کو چاہیے کہ ایسے شخص کے لئے جو ان کی نظر میں اکفر ہے نجران کے نصاری سے بھی جلد تر عذاب نازل ہونے کا وعدہ کریں۔یہ تو ظاہر ہے کہ مباہلہ میں فریقین کی ہر یک فریق مقابل کے عذاب کے لئے درخواست ہوتی ہے کیونکہ مباہلہ دوسرے لفظوں میں ملاعنہ ہے۔یعنی کا ذب کے لئے خواہ فریقین میں سے کوئی کاذب ہو عذاب کی درخواست۔پس یہ مولوی صاحب موصوف کی کس قدر زبردستی ہے کہ اپنے عذاب کے اثر کی تو کوئی میعاد نہیں ٹھیراتے اور مجھ سے فوری عذاب مانگتے ہیں۔