مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 175

مجموعه اشتہارات ۱۷۵ ۱۵۷ جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مولوی غلام دستگیر صاحب کے اشتہار کا جواب کل ۲۴ جنوری کو ایک قطعه اشتہار مولوی غلام دستگیر صاحب میرے پاس پہنچا جس میں مولوی صاحب موصوف مباہلہ کے لئے مجھے بلاتے ہیں اور ۲۵ شعبان ۱۳۱۴ھ تاریخ مقرر کرتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ شرط بھی لگا دی ہے کہ اسی وقت مولوی صاحب پر کوئی عذاب نازل ہو۔ اگر بعد میں ایک سال کے اندر نازل ہوا تو پھر وہ منظور نہیں۔ مگر میں ناظرین کو اطلاع دیتا ہوں کہ یہ مولوی صاحب کی سراسر زبردستی ہے۔ تمام احادیث صحیحہ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی میعاد اثر مباہلہ کی ایک برس رکھا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے وحی پا کر اپنے مباہلہ کا اثر بہت جلد مباہلین پر وارد ہونے والا بیان فرمایا ہے ۔ سواس سے برس کی میعاد منسوخ نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ حدیث میں جو ایک برس کی قید ہے اس سے بھی یہ مراد نہیں ہے کہ برس کا پورا گذر جانا ضروری ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ برس کے اندر عذاب نازل ہو۔ گو دو منٹ کے بعد نازل ہو جائے۔ سو میں بھی اس بات پر ضد نہیں کرتا کہ ضرور برس پورا ہو جائے ۔ شاید خدا تعالیٰ بہت جلد اس تکفیر اور تکذیب کی پاداش میں آسمانی عذاب نازل کرے۔ مگر مجھے معلوم نہیں کہ برس کے کسی حصہ میں یہ عذاب نازل ہوگا ۔ آیا ابتداء میں یا درمیان میں یا اخیر میں ۔ اور میں مامور ہوں کہ مباہلہ کے لئے برس کی میعاد پیش کروں۔ اور مولوی صاحب موصوف اور ہر یک شخص خوب جانتا ہے کہ برس کی میعاد مسنون ہے۔ کیونکہ لَمَّا حَالَ الْحَوْلُ کا وہ لفظ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے