مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 159
مجموعه اشتہارات ۱۵۹ جلد دوم عِجْلٌ جَسَدَلَهُ خُوَارٌ۔ فَلَهُ نَصَبٌ مانگتا ہوں ۔ یہ بیجان گوسالہ ہے اور بیہودہ گو یعنی وَعَذَابٌ۔ لیکھرام پشاوری سو اس کو دکھ کی مار اور عذاب ہوگا ۔ یعنی اسی دنیا میں ۔ (فارسی وارد و الهام ) بخرام که وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔ خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا اور تیری برکتیں پھیلاؤں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ آمین یہ کسی قدر نمونه ان الہامات کا ہے جو وقتاً فوقتاً مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئے ہیں اور ان کے سوا اور بھی بہت سے الہامات ہیں مگر میں خیال کرتا ہوں کہ جس قدر میں نے لکھا ہے وہ کافی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے خدا کا امین اورخدا کی سے آیا ہے جو کچ کہتا ہےاس اوراس کا ہے اور نیز ان تمام الہامات میں اس عاجز کی اس قدر تعریف اور توصیف ہے کہ اگر یہ تعریفیں در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو ہر یک مسلمان کو چاہیے کہ تمام تکبر اور نخوت اور شیخی سے الگ ہو کر ایسے شخص کی فرمانبرداری کا جوا اپنی گردن پر لے لے جس کی دشمنی میں خدا کی لعنت اور محبت میں خدا کی محبت ہے لیکن اگر یہ تعریفیں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں اور یہ تمام کلمات جو الہام کے دعوئی پر