مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 155
مجموعہ اشتہارات جلد دوم قَوْلَ الْحَقِ الَّذِي فِيهِ تَمْتَرُونَ۔يَا أَحْمَدُ یہ وہ سچا قول ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔فَاضَتِ الرَّحْمَةُ عَلَى شَفَتَيْكَ إِنَّا اے احمد رحمت تیرے لبوں پر جاری ہورہی ہے أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ۔فَصَلِّ لِرَبِّكَ ہم نے تجھے بہت سے حقائق اور معارف اور برکات بخشے ہیں اور ذریت نیک عطا کی ہے سوخدا وَانْحَرُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ کیلئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔تیرا بد گو بے خیر ہے يَأْتِي قَمَرُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَمُرُكَ يَتَأْتَى یعنی خدا اسے بے نشان کردے گا اور وہ نامراد يَوْمٌ يَجِيءُ الْحَقُّ وَيُكْشَفُ الصّدقُ مرے گا۔نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام تجھے وَيَخْسِرُ الْخَاسِرُونَ۔اَقِمِ الصَّلوةَ حاصل ہو جائے گا۔اس دن حق آئے گا اور بیچ لِذِكْرِى أَنْتَ مَعِى و اَنَا مَعَكَ کھولا جائے گا اور جو خسران میں ہیں ان کا سرک سرى۔وَضَعْنَا عَنكَ خسران ظاہر ہو جائے گا۔میری یاد میں نماز کو قائم وِزْرَكَ الَّذِی اَنقَضَ ظَهرَک کرے تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔تیرا بھید میرا بھید ہے۔ہم نے تیرا وہ بوجھ اتار دیا وَرَفَعْنَالَکَ ذِكْرَكَ يُخَوِّفُونَكَ جس نے تیری کمر توڑ دی۔اور تیرے ذکر کو ہم نے مِنْ دُونِهِ۔أَئِمَّةُ الْكُفْرِ۔لَا تَخَفْ بلند کیا۔تجھے خدا کے سوا اوروں سے ڈراتے ہیں۔یہ کفر کے پیشوا ہیں۔مت ڈر غلبہ تھی کو ہے۔إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى۔لے حاشیہ۔یہ الہام کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ اس وقت اس عاجز پر خدا تعالیٰ کی طرف سے القا ہوا کہ جب ایک شخص نو مسلم سعد اللہ نام نے ایک نظم گالیوں سے بھری ہوئی اس عاجز کی طرف بھیجی تھی اور اس میں اس عاجز کی نسبت اس ہند وزادہ نے وہ الفاظ استعمال کئے تھے کہ جب تک ایک شخص در حقیقت شقی خبیث طینت فاسد القلب نہ ہو ایسے الفاظ استعمال نہیں کر سکتا۔اگر چہ ایسے لفظوں اور ایسی گالیوں میں جو د قبال، شیطان، کذاب، کافر، اکفر، مکار کے نام سے ہیں اور دوسرے مولوی بھی اس کے ساتھ شریک ہیں بلکہ باطل پرست بطالوی جو محمد حسین کہلاتا ہے شریک غالب اور اغـدى الاغدَاء ہے لیکن اس ہند وزادہ کی خباثت فطرتی اس لئے سب سے بڑھ کر ہے کہ با وجود محض جاہل ہونے کے یہ شعر بھی اردو میں کہتا ہے اور شعروں میں گالیاں نکالتا ہے اور نہایت بدگوئی سے افتراء بھی کرتا ہے اور بہتان کے طور پر ایسی دشنام دہی کرتا ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب کے شاعر بے ایمان گالیاں نکالا کرتے تھے۔سو یہ الہام اس کے اشتہار اور رسالہ کے پڑھنے کے وقت ہوا کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُسواگر اس ہند وزادہ بدفطرت کی نسبت ایسا وقوع میں نہ آیا اور وہ نامراد اور ذلیل اور رسوا نہ مرا تو سمجھو کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں۔منہ