مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 152

مجموعہ اشتہارات ۱۵۲ جلد دوم قُلْ هُوَ اللهُ عَجِيْبٌ يَجْتَبِي مَنْ يَّشَاءُ مِنْ كہ وہ خدا عجیب ہے جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں کہہ میں سے چن لیتا ہے۔وہ اپنے کاموں میں پوچھا نہیں جاتا اور دوسرے پوچھے جاتے ہیں۔اور یہ عِبَادِهِ۔لَا يُسْتَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْتَلُونَ۔وَتِلْكَ الأَيَّامُ نُدَاوِ الُهَا بَيْنَ النَّاسِ۔دن ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں اور کہتے وَقَالُوا إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلاقُ إِذَا نَصَرَ اللهُ ہیں کہ یہ تو ضرور افترا ہے۔خدا جب مومن کو مدد الْمُؤْمِنَ جَعَلَ لَهُ الْحَاسِدِيْنَ فِي الْأَرْضِ دیتا ہے تو زمین پر اس کے کئی حاسد بنا دیتا ہے۔کہہ خدا ہے جس نے یہ الہام کیا پھر ان کو چھوڑ قُلِ اللهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ۔لَا دے تا اپنی کج فکریوں میں بازی کریں۔اولیاء تُحَاطُ أَسْرَارُ الْأَوْلِيَاءِ تَلَطَّفْ بِالنَّاسِ کے اسرار پر کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔لوگوں سے وَتَرَحْمُ عَلَيْهِمْ۔أَنْتَ فِيْهِمْ بِمَنْزِلَةِ مُوسَى۔لطف کے ساتھ پیش آ اور ان پر رحم کر۔تو ان میں وَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُوْلُوْنَ وَ ذَرْنِي وَ الْمُكَذِّبِينَ بمنزلہ موسیٰ کے ہے اور ان کی باتوں پر صبر کر اور منعم مکذبوں کی سزا مجھ پر چھوڑ دے۔تو ہمارے پانی أُولِي النِّعْمَةِ۔أَنْتَ مِنْ مَّاءِ نَاوَهُمْ مِنْ فَشَال سے ہے اور وہ لوگ فشل سے لے حاشیہ۔یہ جوفرمایا کہ تو ہمارے پانی میں سے ہے اور وہ لوگ فشل سے۔اس جگہ پانی سے مراد ایمان کا پانی ، استقامت کا پانی، تقوی کا پانی ، وفا کا پانی صدق کا پانی ، حُبّ اللہ کا پانی ہے۔جو خدا سے ملتا ہے اور فشل بزدلی کو کہتے ہیں جو شیطان سے آتی ہے۔اور ہریک بے ایمانی اور بدکاری کی جڑ بزدلی اور نامردی ہے۔جب قوت استقامت باقی نہیں رہتی تو انسان گناہ کی طرف جھک جاتا ہے۔غرض فشل شیطان کی طرف سے ہے اور عقائد صالحہ اور اعمال طبیبہ کا پانی خدا تعالیٰ کی طرف سے۔جب بچہ پیٹ میں پڑتا ہے تو اس وقت اگر بچہ سعید ہے اور نیک ہونے والا ہے تو اس نطفہ پر روح القدس کا سایہ ہوتا ہے اور اگر بچہ شقی ہے اور بدہونے والا ہے تو اس نطفہ پر شیطان کا سایہ ہوتا ہے اور شیطان اس میں شراکت رکھتا ہے اور بطور استعارہ وہ شیطان کی ذریت کہلاتی ہے اور جو خدا کے ہیں وہ خدا کے کہلاتے ہیں جن کو پہلی کتابوں میں بطور استعارہ ابناء اللہ کہا گیا ہے۔چنانچہ یہ لفظ آدم اور یعقوب وغیرہ بہت سے نبیوں پر استعمال ہوا ہے اور انجیل میں مسیح ابن مریم پر بھی استعمال پایا ہے اور کسی کی اس میں کچھ خصوصیت نہیں صرف بلحاظ مذکورہ بالا استعمال پاتا رہا ہے چنانچہ سیح ابن مریم کی نسبت احادیث سے جو معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کے مکس سے وہ اور اس کی ماں پاک ہے تو یہ لفظ اسی اظہار کی غرض سے ہے کہ عیسی بن مریم کی ناجائز پیدائش نہیں جیسا کہ یہودیوں کا خیال ہے نا نطفہ پر شیطان کا سایہ مانا جائے۔بلکہ بلاشبہ برخلاف زعم یہودیوں کے وہ حلال زادہ تھا اورمریم بدکار عور نہیں تھی۔اس مسئلہ میں اصول یہ ہے کہ شیطان کا سایہ جس کو مکس اور اشتراک بھی کہتے ہیں جس کے لحاظ سے کہا جاتا ہے کہ یہ شخص ذریت شیطان ہے یا بائبل کے محاورہ کے رو سے نسخاش کا بچہ ہے یعنی سانپ کا جو شیطان ہے صرف اس صورت میں کسی نطفہ پر پڑتا ہے جبکہ نفہ ڈالنے والایا وہ جس کے رحم میں نطفہ ٹھہرا نہایت بری