مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 136
مجموعہ اشتہارات جلد دوم دعا میں کسی خاص فریق پر نہ لعنت ہے نہ بددعا ہے بلکہ اس جھوٹے کو سزا دلانے کی غرض سے ہے جو اپنے جھوٹ کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ایک جہان کے زندہ ہونے کے لئے ایک کا مرنا بہتر ہے۔پادری صاحبان خوب جانتے ہیں کہ جھوٹوں پر یسوع نے بھی بددعائیں کی ہیں۔چنانچہ یسوع متی باب ۲۳ میں یہود کے علماء کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔اے سانپو اور سانپ کے بچو تم جہنم کے عذاب سے کیونکر بھا گو گے۔۳۶۔میں تم سے بچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس زمانہ کے لوگوں پر آوے گا یعنی عذاب اور باب ۲۳ آیت ۱۳ میں یسوع بار بار جھوٹوں مکاروں کی تباہی چاہتا ہے اور ویل کا لفظ استعمال کرتا ہے جو ہمیشہ بددعا کے لئے آتا ہے۔غرض ایسا جھوٹا جو جھوٹ کو کسی طرح چھوڑ نا نہ چاہے اس کا وجود تمام فتنوں سے زیادہ فتنہ ہے اور فتنہ کو ہر ایک طرح سے فرد کرنا راستبازوں کا فرض ہے۔پس جس حالت میں عیسائی نہایت غلو سے کہتے ہیں کہ دین اسلام انسان کا افترا ہے۔اور اہل اسلام دلی یقین رکھتے ہیں کہ عیسائی در حقیقت انسان پرست ہیں تو کیا لازم نہیں ہے کہ جس طرح ہو سکے یہ بات فیصلہ پا جائے۔ہم نے بار بار سمجھایا کہ عیسی پرستی بت پرستی اور رام پرستی سے کم نہیں۔اور مریم کا بیٹا کشتیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا مگر کیا کبھی آپ لوگوں نے توجہ کی۔یوں تو آپ لوگ تمام دنیا کے مذہبوں پر حملہ کر رہے ہیں مگر کبھی اپنے اس مثلث خدا کی نسبت بھی کبھی غور کی۔کبھی یہ خیال آیا کہ وہ جو تمام عظمتوں کا مالک ہے اس پر انسان کی طرح کیونکر دکھ کی مار پڑ گئی۔کبھی یہ بھی سوچا کہ خالق نے اپنی ہی مخلوق سے کیونکر مارکھالی۔کیا یہ سمجھ آ سکتا ہے کہ بندے ناچیز اپنے خدا کو کوڑے ماریں، اس کے منہ پر تھوکیں ، اس کو پکڑیں، اس کو سولی دیں اور وہ مقابلہ سے عاجز رہ جائے بلکہ خدا کہلا کر پھر اس پر موت بھی آجائے۔کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ تین مجسم خدا ہوں ایک وہ مجسم جس کی شکل پر آدم ہوا۔دوسرا یسوع۔تیسرا کبوتر اور تینوں میں سے ایک بچہ والا اور دولا ولد۔کیا یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ خدا شیطان کے پیچھے پیچھے چلے اور شیطان اس سے سجدہ چاہے اور اس کو دنیا کی طمع دے۔کیا یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ ا نوٹ۔عیسائی صاحبان کبوتروں کو شوق سے کھاتے ہیں۔حالانکہ کبوتر ان کا دیوتا ہے۔ان سے ہندو اچھے رہے کہ اپنے دیوتا بیل کو نہیں کھاتے۔منہ