مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 135
مجموعہ اشتہارات جلد دوم تنازعات میں پڑنا نہیں چاہتی۔پس یہ روز افزوں جھگڑے کیونکر فیصلہ پاویں۔مباحثات کے نیک نتیجہ سے تو نومیدی ہو چکی بلکہ جیسے جیسے مباحثات بڑھتے جاتے ہیں ویسے ہی کینے بھی ساتھ ساتھ ترقی پکڑتے جاتے ہیں سو اس نومیدی کے وقت میں میرے نزدیک ایک نہایت سهل و آسان طریق فیصلہ ہے اگر پادری صاحبان قبول کر لیں اور وہ یہ ہے کہ اس بحث کا جو حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے خدا تعالیٰ سے فیصلہ کرایا جائے۔اول مجھے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ ایسا خدائی فیصلہ کرانے کے لئے سب سے زیادہ مجھے جوش ہے اور میری دلی مراد ہے کہ اس طریق سے یہ روز کا جھگڑا انفصال پا جائے۔اگر میری تائید میں خدا کا فیصلہ نہ ہو تو میں اپنی کل املاک منقولہ و غیر منقولہ جو دس ہزار روپیہ کی قیمت سے کم نہیں ہوں گی عیسائیوں کو دے دوں گا اور بطور پیشگی تین ہزار روپیہ تک ان کے پاس جمع بھی کرا سکتا ہوں۔اس قدر مال کا میرے ہاتھ سے نکل جانا میرے لئے کافی سزا ہوگی۔علاوہ اس کے یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے دستخطی اشتہار سے شائع کر دوں گا کہ عیسائی فتح یاب ہوئے اور میں مغلوب ہوا اور یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ اس اشتہار میں کوئی بھی شرط نہ ہو گی لفظا نہ معنا۔اور ربانی فیصلہ کے لئے طریق یہ ہوگا کہ میرے مقابل پر ایک معزز پادری صاحب جو پادری صاحبان مندرجہ ذیل میں سے منتخب کئے جائیں یے میدان مقابلہ کے لئے جو تراضی طرفین سے مقرر کیا جائے طیار ہوں۔پھر بعد اس کے ہم دونوں معہ اپنی اپنی جماعتوں کے میدان مقررہ میں حاضر ہو جائیں اور خدائے تعالیٰ سے دعا کے ساتھ یہ فیصلہ چاہیں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص درحقیقت خدا تعالیٰ کی نظر میں کا ذب اور مور د غضب ہے خدا تعالیٰ ایک سال میں اس کا ذب پر وہ قہر نازل کرے جو اپنی غیرت کے رو سے ہمیشہ کا ذب اور مکذب قوموں پر کیا کرتا ہے جیسا کہ اس نے فرعون پر کیا نمرود پر کیا اور نوح کی قوم پر کیا اور یہود پر کیا۔حضرات پادری صاحبان یہ بات یادرکھیں کہ اس باہمی ا نوٹ۔ان صاحبوں میں سے کوئی منتخب ہونا چاہیے۔اول ڈاکٹر مارٹن کلارک۔دوسرے پادری عمادالدین پھر پادری ٹھا کر داس یا حسام الدین بمبئی یا صفدر علی بھنڈارہ یا طامس ہاول یا فتح مسیح بشرط منظوری دیگران۔