مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 125
مجموعہ اشتہارات ۱۲۵ جلد دوم قدر بدی ہے لیکن جو شخص عفو کرے اور ایسی عفو ہو کہ اس سے کوئی اصلاح مقصود ہو تو وہ خدا سے اپنا اجر پائے گا یعنی بے محل اور بے موقع عفونہ ہو جس سے کوئی بد نتیجہ نکلے اورکوئی فساد پیدا ہو بلکہ ایسے موقعہ پر عفو ہو جس سے کسی صلاحیت کی اُمید ہو اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بنی آدم کی طبیعتیں یکساں واقع نہیں ہوئیں اور گناہ کرنے والوں کی عادتیں اور استعداد میں ایک طور کی نہیں ہوا کرتیں بلکہ بعض تو سزا کے لائق ہوتے ہیں اور بغیر سزا کے ان کی اصلاح ممکن نہیں اور بعض عفو اور درگذر سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور سزا دینے سے جوڑ کر اور بھی بدی پر مستحکم ہو جاتے ہیں۔غرض یہ تعلیم وقت اور موقعہ بینی کی قرآن شریف میں جا بجاپائی جاتی ہے اگر ہم تفصیل سے لکھیں تو ایک بڑا رسالہ بن جاتا ہے۔یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسا کہ توریت میں آیا ہے کہ ”خدا سینا سے آیا اور شعیر سے طلوع کیا اور فاران کے پہاڑ سے ان پر چکا۔اسی طرح حقیقی چمک ہر ایک تعلیم کی اسلام سے پیدا ہوئی ہے۔خدا کے کام اور خدا کی کلام کا کامل معانقہ قرآن نے ہی کرایا ہے۔توریت نے سزاؤں پر زور دیا تھا اور چونکہ انجیل ایسے وقت میں نازل ہوئی جبکہ یہود میں انتقام کشی کی عادتیں اور کینہ اور بغض حد سے بڑھ گیا تھا اس لیے انجیل میں عفو اور در گذر کی تعلیم ہوئی۔مگر یہ تعلیم نفس الامر میں عمدہ نہ تھی بلکہ نظام الہی کی دشمن تھی۔لہذا حقیقی تعلیم کا تلاش کرنے والا انجیل کی تعلیم پر بہت ہی شک کرے گا اور ممکن ہے کہ ایسے معلم کو ایک نادان اور سادہ لوح قرار دے۔چنانچہ یورپ کے محققوں نے ایسا ہی کہا، مگر یادر ہے کہ اگر چہ انہیں کی تعلیم بالکل لکھی اور سراسر کی ہے لیکن حضرت مسیح اس وجہ سے معذور ہیں کہ انجیل کی تعلیم ایک قانون دائمی اور مستمر کی طرح نہیں تھی بلکہ ایک محدودا یکٹ کی طرح تھی جو محض مختص المقام اور مختص الزمان اور مختص القوم ہوتا ہے۔یورپ کے وہ روشن دماغ محقق جنہوں نے یسوع کو نہایت درجہ کا نا دان اور سادہ لوح اور علم وحکمت سے بے بہرہ قرار دیا ہے۔اگر وہ اس عذر پر اطلاع اے حاشیہ۔فاران عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں دو بھاگنے والے اور مصدر اس کا فرار ہے۔چونکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ مطہرہ صدیقہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا سارہ کی بدخوئی اور ظلم کے ہاتھ سے تنگ آکر الہام الہی سے مکہ معظمہ کی زمین میں بھاگ آئے اس لیے اس زمین کا نام فاران ہوا یعنی دو بھاگنے والے۔منہ