مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 121

مجموعہ اشتہارات ۱۲۱ جلد دوم کوئی ایسا اتفاق ہو جائے کہ کوئی ظالم آپ کی آنکھ پھوڑ دے یا آپ کا ایک دانت نکال دے تو انجیل کی رُو سے آپ ایسے ظالم سے کس طرح پیش آئیں گے۔اگر کہو کہ اس وقت ہم بدی کا بدی کے ساتھ مقابلہ نہیں کریں گے مگر عدالت کے ذریعہ سے انتقام لیں گے تو یہ کارروائی انجیلی تعلیم کا ہرگز منشا نہیں ہے کیونکہ اگر آنکھ کے بدلے ضرور آنکھ کو پھوڑنا ہے اور کسی قاضی یا حاکم کی طرف رجوع کرنا ہے تو یہ توریت کی تعلیم ہے جو آپ کے یسوع صاحب کے وجود سے بھی پہلے بنی اسرائیل میں رائج تھی اور اب بھی کمزور اور ضعیف لوگ کب شریروں کا مقابلہ کرتے ہیں۔وہ بھی تو فوجداری اور مالی مقدمات میں عدالتوں کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں۔مگر متی کے پانچ باب میں جس طرز بیان کو آپ کے یسوع صاحب نے اختیار کیا ہے یعنی توریت کے احکام پیش کر کے جابجا کہا ہے کہ اگلوں سے یہ کہا گیا ہے مگر میں تمہیں یہ کہتا ہوں اس طرز سے صاف طور پر اُن کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ وہ توریت کی تعلیم سے کچھ علاوہ بیان کرنا چاہتے ہیں۔پھر اگر مقام متنازعہ فیہ میں تو ربیت سے زیادہ کوئی بات نہیں بلکہ جیسا کہ ایک یہودی کسی ظالم کے ہاتھ سے ظلم اُٹھا کر عدالت سے چارہ جوئی کرنا چاہتا ہے یہی انجیل کی بھی تعلیم ہے تو پھر مسیح کا یہ دعویٰ کہ پہلی کتاب میں تو یہ کہا گیا ہے مگر میں یہ کہتا ہوں محض لغو ٹھہرتا ہے سوال تو یہ ہے کہ مسیح نے جو توریت کی تعلیم آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت بیان کر کے پھر اپنی ایک نئی تعلیم بتلائی جو اس سے بہتر ہے وہ کیا ہے۔اب جبکہ نئی تعلیم کو ئی بھی ثابت نہ ہوسکی۔تو یہ کہنا پڑے گا کہ مسیح نے صرف دھوکہ دیا ہے اور پادری ٹھا کر داس صاحب یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کے یسوع صاحب کا ظالم کے مقابلہ سے اپنے چیلوں کو منع کرنا صرف چھوٹی چھوٹی باتوں تک محدود ہے اور کہتے ہیں کہ ترک مقابلہ سے یہ مطلب ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتیں جیسے کہ مثلاً گال پر طمانچہ کھانا بدلہ لینے کا محل نہیں ہے بلکہ ایسی حالتوں میں برداشت کرنا فرض ہے۔مگر وہ اپنے اس بیان سے ثابت کرتے ہیں کہ انجیل کی منشا سے وہ کیسے نا واقف ہیں۔اے صاحب آپ نے کہاں سے اور کس سے سُن لیا کہ ظالم کا منہ پر طمانچہ مارنا چھوٹی چھوٹی باتوں میں داخل ہے۔شاید اب تک آپ نے کسی زبر دست کا طمانچہ نہیں کھایا افسوس کہ موسیٰ کا طمانچہ بھی آپ کو یاد نہ رہا کہ اس کا کیا نتیجہ تھا۔اگر اس