مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 119

مجموعہ اشتہارات ۱۱۹ جلد دوم میں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا۔اس جگہ غور طلب یہ امر ہے کہ ترک مقابلہ کے کیا معنی ہیں؟ کیا صرف یہی کہ اگر کوئی ظالم آنکھ پھوڑ دے، یا دانت نکال دے تو بتوسط حکام اس کو سزا دلانی چاہیے۔خود بخود اس کی آنکھ نہیں پھوڑنی چاہیے اور نہ دانت نکالنا چاہیے۔اگر یہی معنی ہیں تو تو ربیت پر زیادت کیا ہوگی۔کیونکہ تو ریت بھی تو یہی ہدایت دیتی ہے کہ ظالموں کو قاضیوں کی معرفت سزا ملے۔خروج ۲۱ باب میں خدا موسیٰ کو کہتا ہے کہ تو جان کے بدلے جان لے اور آنکھ کے بدلے آنکھ ، دانت کے بدلے دانت۔اور توریت بتلا رہی ہے کہ یہ تمام سزائیں قاضیوں کی تجویز کے موافق عمل میں آویں۔مگر پادری ٹھا کر داس صاحب کہتے ہیں کہ انجیل کی تعلیم میں توریت پر یہ زیادت ہے کہ ایک مظلوم حکام کی معرفت انتقام لیوے۔یعنی یہودیوں کو تو اختیار تھا کہ ظالم کو بغیر توسط حکام کے خود سزا دے دیں۔مگر انجیل نے قاضیوں اور حاکموں کے سوا کسی کو سزا دینے کے لیے مجاز قرار نہیں دیا۔گویا قاضیوں کے عہدے تجویز کرنے والی انجیل ہی ہے۔توریت میں اس کا کچھ ذکر نہیں۔مگر ظاہر ہے کہ ایسا خیال صریح خلاف واقعہ ہے اور پادری صاحب نے بھی کوئی ایسی آیت توریت کی پیش نہیں کی جس سے یہ سمجھا جائے کہ توریت ہر ایک کو سزا دینے کا اختیار دیتی ہے۔بلکہ یہ بات تو ہر ایک توریت پڑھنے والے کو معلوم ہے کہ توریت کی تمام سزائیں اور حدود قاضیوں کی معرفت عمل میں آتی تھیں۔اور جرائم کی پاداش کا توریت میں بھی انتظام تھا کہ قاضیوں کے ذریعہ سے ہر ایک مجرم سزا پاوے۔اور اگر اس تقریر سے پادری صاحب کا یہ مطلب ہے کہ گو توریت میں قاضیوں کے ذریعہ سے سزائیں تو ہوتی تھیں مگر خود حفاظتی کے لیے جس قدر مقابلہ کی ضرورت تھی یہودی لوگ اس مقابلہ کے لیے مجاز تھے۔اب انجیل میں کمال یہ ہے کہ عیسائی اس مقابلہ کے لیے مجاز نہیں ہیں بلکہ حکم ہے کہ ظالم کا منشاء پورا ہونے دیں۔مثلاً اگر کوئی ظالم ایک عیسائی کی آنکھ پھوڑنا چاہے تو عیسائی کو چاہیے کہ بخوشی اس کو پھوڑنے دے اور پھر کا نایا اندھا ہونے کے بعد عدالت میں جا کر نالش کر دے۔تو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ یہ کس قسم کی اخلاقی تعلیم ہے اور ایسے اخلاق سے نفسانی جذبات پر کسی قسم کا اثر پڑے گا۔بلکہ ایسا انسان نہایت بد بخت انسان ہے کہ اپنی آنکھ ناحق ضائع کرا کر پھر صبر نہ کر سکا اور اپنی قوت انتقام کو حکام کے ذریعہ سے ایسے وقت میں عمل میں لایا جو اس کو کچھ نفع نہیں دے سکتا تھا۔ایسے عیسائی سے تو یہودی ہی