مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 118
مجموعہ اشتہارات ۱۱۸ ۱۵۲ جلد دوم دو عیسائیوں میں محاکمہ انجیل متی ۵ باب میں ہے کہ ”تم سن چکے ہو کہ کہا گیا۔آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا۔اس تعلیم پر ایک صاحب خیر الدین نام عیسائی نے ڈرتے ڈرتے اعتراض کیا ہے کہ ایسے احکام اس طبعی قانون خود حفاظتی کے برخلاف ہیں جو جمیع حیوانات بلکہ پرندوں اور کیڑوں میں بھی نظر آ رہا ہے اور ثابت نہیں ہوسکتا کہ کسی زمانہ میں باستثناء ذات مسیح کے ان احکام پر کسی شخص نے عمل بھی کیا ہے۔چنانچہ یہ سوال ان کا نور افشاں ۲۰/ دسمبر ۱۸۹۵ء میں درج ہو چکا ہے۔در حقیقت یہ سوال خیر الدین صاحب کا نہایت عمدہ اور کامل اور ناقص تعلیم کے لیے ایک معیار تھا۔مگر افسوس کہ پرچہ نور افشاں ۳/ جنوری ۱۸۹۶ء میں پادری ٹھاکر داس صاحب نے اس قابل قدر اور بیش قیمت سوال کا ایسا نکما اور بیہودہ جواب دیا ہے جس سے ایک محقق طبع انسان کو ضرور ہنسی آئے گی۔اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ سوال اور جواب کی کچھ حقیقت محاکمہ کے طور پر ظاہر کر کے اُن لوگوں کو فائدہ پہنچاؤں جو حقیقی سچائیوں کے بھوکے اور پیاسے ہیں۔واضح ہو کہ پادری ٹھا کر داس صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انجیل میں جانی یا مالی ضرر کی حالت میں ترک مقابلہ کے یہ معنی ہیں کہ ظالم سے انتقام حکومت ہی لیوے آپ مقابلہ نہ کریں۔مطلب یہ کہ اگر کوئی ظالم کسی جان کو ضر ر شدید پہنچا د یوے یا مال کو لے لیوے تو انجیل کا منشاء یہ ہے کہ بتوسط حاکم چارہ جوئی کی جائے۔اب غور سے سوچنا چاہیے کہ انجیل متی کی اصل عبارت جس کے یہ معنی کئے گئے ہیں یہ ہے کہ تم سن چکے ہو کہ کہا گیا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت پر