مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 105
مجموعہ اشتہارات جلد دوم (۴) چوتھے یہ کہ اسلامی تعطیلیں ہندوؤں کی تعطیلوں سے نصف سے بھی کم ہیں۔پس اس صورت میں بھی گورنمنٹ کے مراحم خسروانہ کا یہی تقاضا ہونا چاہیے کہ جمعہ کی تعطیل کرنے سے اس نقصان کا جبر کرے۔(۵) پانچویں یہ کہ چونکہ جمعہ کی تعطیل ہم مسلمانوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔اس لیے ہم یہ بھی بادب التماس کرتے ہیں کہ اگر ہماری محسن گورنمنٹ اتوار کی تعطیل کو ہمارے لیے موقوف رکھ کر اس کے عوض ہمیں صرف جمعہ کی تعطیل دے دے تو ہم تب بھی بصدق دل راضی ہیں۔مگر بہر حال ہم رعایا کی درخواست یہی ہے کہ جمعہ کی تعطیل ہو۔(۲) چھٹے یہ کہ ہماری مہربان گورنمنٹ کو اس بات کا خوب علم ہے کہ تمام اسلامی سلطنتیں اور ریاستیں قدیم سے جمعہ کی تعطیل کرتے ہیں۔سلطنت روم میں جمعہ کی تعطیل ہے اور حیدر آباد کی ریاست وغیرہ میں بھی جمعہ کی تعطیل ہی مقرر ہے تو اس صورت میں گورنمنٹ کے احسانات پر ہمیں یہی توقع ہے کہ ہم اس فیاض گورنمنٹ کی رعایا ہو کر پھر ایسے بد قسمت نہ ٹھہریں کہ دوسرے مسلمانوں کی یہ خوش قسمتی دیکھ کر کہ وہ دوسری ریاستوں میں اس عظیم الشان مذہبی دن کی تعطیل سے مذہبی فرائض کو بخوبی بجالاتے ہیں آتش رشک میں جلا کریں۔چونکہ ہم سچے دل سے گورنمنٹ کے اور گورنمنٹ ہماری ہے اور دائمی تعلقات اور بقاء دولت۔گورنمنٹ کے لیے سچے دل سے دُعا کرتے ہیں تو کیا ہم گوارا کر سکتے ہیں کہ ہمیشہ اور ہر زمانہ میں یہ ارمان ہمارے دل میں چلا جائے کہ کیوں ہمارے لیے وہ بات حاصل نہیں جو دوسری ریاستوں کی رعایا کو حاصل ہے۔یہ بھی عاجزا نہ عرض ہے کہ ہم رعایا نے اب تک گورنمنٹ میں اس بات کی کبھی تحریک نہیں کی کیونکہ یہی رعیتا نہ ادب کا تقاضا دیکھا کہ صبر اور آہستگی سے اس درخواست کو پیش کریں۔سواب بڑی امید کے ساتھ پیش کی گئی۔(۷) ساتویں یہ بات بھی گورنمنٹ عالیہ میں عرض کر دینے کے لائق ہے کہ یہ روز جمعہ جس کی تعطیل کے لیے ہم مسلمان رعایا یہ عرضداشت بھیجتے ہیں۔اگر چہ بہت اہم کام اس میں عبادات کا خاص طور پر ادا کرنا اور اسلامی ہدایات کو اپنے علماء سے سُنتا ہے، لیکن اور کئی رسوم مذہبی بھی اسی دن میں ادا