مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 104

مجموعہ اشتہارات ۱۰۴ جلد دوم انگریزی ضرور یہ تعطیل برٹش انڈیا میں منظور فرماوے۔(۳) تیسرے یہ کہ تمام نیک دل اور پاک طبع مسلمان جو گورنمنٹ عالیہ کے بچے خیر خواہ ہیں التزامِ جمعہ کی رسم کو اس محسن گورنمنٹ کی کچی خیر خواہی اور دلی وفاداری کے لیے ایک علامت ٹھہراتے ہیں۔مگر بعض دوسرے نالائق نام کے مسلمان جن کی تعداد قلیل ہے اس ملک برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دے کر اپنے خود تراشیدہ خیالات کے رُو سے جمعہ کی فرضیت سے منکر ہیں۔کیونکہ ان کا گمان ہے جو برٹش انڈیا دارالحرب ہے اور دار الحرب میں جمعہ فرض نہیں رہتا۔پس کچھ شک نہیں کہ جمعہ کی تعطیل سے ایسے بد باطن کمال صفائی سے شناخت کئے جائیں گے۔کیونکہ اگر باوجود تعطیل کے پھر بھی وہ جمعہ کی نمازوں میں حاضر نہ ہوئے تو یہ بات گھل جائے گی کہ در حقیقت وہ نالائق اس گورنمنٹ کے ملک کو دارالحرب ہی قرار دیتے ہیں۔تبھی تو جمعہ کی پابندی سے عمدا گریز کرتے ہیں۔سواس صورت میں یہ مبارک دن نہ صرف مسلمانوں کی عبادات خاصہ کا ایک دن ہوگا بلکہ گورنمنٹ کے لیے بھی ایک سچے مخبر کا کام دے گا اور ایک معیار کی طرح کھرے اور کھوٹے میں فرق کر کے دکھلاتا رہے گا۔چنانچہ اس درخواست پر بھی صرف انہیں بچے خیر خواہوں کے دستخط درج ہیں جو اس ملک کو دارالحرب قرار نہیں دیتے۔اور دلی سچائی سے گورنمنٹ کی حکومت کو قبول کر لیا ہے اور اپنے لیے سراسر برکت اور رحمت سمجھا ہے اور کچھ شک نہیں کہ جمعہ کی تعطیل سے ایسے لوگ جو غلطیوں میں پڑے ہوئے ہیں اثر پذیر بھی ہوں گے اور گورنمنٹ کے دلی خیر خواہ بہت ترقی پذیر ہوں گے اور بد باطن تارک الجمعہ بڑی آسانی سے شناخت کئے جائیں گے یہ بات دوبارہ گورنمنٹ کو یاد دلائی جاتی ہے کہ ایک جمعہ ہی مسلمانوں میں اس بات کی علامت ہے کہ کون شخص اس ملک گورنمنٹ کو دارالحرب قرار دیتا ہے اور کون اس کی نفی کرتا ہے۔سو جو شخص گورنمنٹ برطانیہ کی رعیت ہو کر جمعہ کی فرضیت کا قائل ہے اور اس کا ترک کرنا معصیت سمجھتا ہے وہ ہر گز اس ملک کو دارالحرب قرار نہیں دے گا اور سچے دل سے گورنمنٹ کا خیر خواہ ہوگا لیکن جو شخص برٹش انڈیا میں جمعہ کی فرضیت کا منکر ہے وہ در پردہ اس ملک کو دارالحرب قرار دیتا ہے اور سچا خیر خواہ نہیں۔سو جمعہ ان دونوں فریقوں کے پر کھنے کے لیے ایک معیار ہے۔