مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 100
مجموعه اشتہارات ١٠٠ جلد دوم مقصد کے بعد جو دفعہ ۲۹۸ کی توسیع کے متعلق ہے ایک اور ہمارا مقصد ہے جس کے حصول سے پنجاب اور ہندوستان کے مسلمانوں کو گورنمنٹ کی عنایات سے وہ عزت ملے گی جس کو وہ مدت دراز سے کھو چکے ہیں۔ اور اس صورت میں ایک نئی شکر گزاری کے گیت اُن پر واجب ہوں گے اور نہایت خوشی سے گورنمنٹ کی بقاء دولت اور حکومت کے لیے نعرے ماریں گے۔ وہ مقصد یہ ہے کہ جب سے اس ملک ہند میں اسلامی سلطنت نے اپنی بنیاد ڈالی تب سے جمعہ کی تعطیل صدہا برسوں سے اس ملک میں جاری رہی ۔ چنانچہ اس کے آثار باقیہ میں سے یہ بات ہے کہ اب تک بعض ریاستوں میں باوجود ہندو ہونے کے جمعہ کی تعطیل ریاست کے دفتروں اور عدالتوں میں رہی ہے اور چونکہ گورنمنٹ عالیہ نے اتوار کی تعطیل کو مقرر کر کے عیسائیوں اور ہندوؤں کو وہ حق دے دیا ہے جو ایک مذہبی دن کے متعلق ان کو ملنا چاہیے تھا تو پھر مسلمان بھی اس بات کے مستحق ہیں کہ اس مہربان گورنمنٹ سے اپنے حق کا بھی ادب اور انکسار کے ساتھ مطالبہ کریں۔ بھائیو! آپ خوب جانتے ہو کہ جمعہ اسلام میں صرف ایک عید کا ہی دن نہیں بلکہ وہ تجدید احکام دین کا بھی ایک خاص روز ہے جس میں مسلمانوں کے کانوں میں اسلام کی پاک وصایا تازہ طور پر پڑتی ہیں اور بھولے ہوئے مسائل نئے سرے سے کہ یاد دلائے جاتے ہیں ۔ اس دن میں ہر ایک مسلمان پر فرض ہے کہ مسجد میں حاضر ہوا اور دینی وصایا کو سنے اور اپنے ایمان کو تازہ کرے اور اپنی معلومات کو بڑھاوے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ اس نحوست سے کہ ملازمت پیشہ لوگوں کو جمعہ کے لیے فرصت نہیں ملتی بہت سی مسجد میں ویران نظر آتی ہیں چونکہ جمعہ مسلمانوں کے لیے دو قسم کے غسل کا دن ہے۔ ایک جسم کا غسل جس کے بعد سفید پوشاک پہنی جاتی ہے اور ایک دل کا غسل یعنی تو بہ اور استغفار جس کے بعد لِبَاسُ التَّقوی پہنایا جاتا ہے اس لیے جمعہ میں یہ خاصیت ہے کہ جو شخص اخلاص اور سچی ایمانداری سے جمعہ کی نماز میں حاضر ہوتا رہے اور ہدایتوں کو سنتا رہے اور گھر میں تو بہ نصوح کا تحفہ ساتھ لاتا رہے اُس کو دوسرے دنوں میں بھی نماز کی توفیق دی جاتی ہے اور جمعیت باطنی اس کو عطا کی جاتی ہے جس کی طرف جمعہ کے لفظ میں بھی ایک لطیف اشارہ ہے۔ علاوہ اس کے اس سے مومنوں کا تعارف بڑھتا