مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 98

مجموعہ اشتہارات ۹۸ جلد دوم زرد چو ورقہ اس کام کے پورا کر دینے کے لیے شائع کیا تھا اور لکھا تھا کہ اگر میرے ہاتھ میں یہ کام دیا جائے تو میں اس کو حسب المراد انجام دے دُوں گا، لیکن جب یہ کام ان کو سپر د کیا گیا تو چونکہ اُن کی صرف اتنی ہی غرض تھی کہ ہمارا چلتا ہوا کام روک دیا جائے اس لیے وہ چپکے ہو کر بیٹھ گئے اور میری طرف ایک خط لکھا جس کا ماحصل یہ تھا کہ تم اپنی کتا ہیں کہ جو حال میں مخالفین مذہب کے حملوں کے رڈ میں لکھی گئی ہیں شائع ہونے سے روک دو اور اس طرح اُن کو تلف کر کے وہ بُرا اثر لوگوں میں پھیلنے دو جس کے مٹانے کے لیے یہ تالیفات ہیں تب میں یہ کاروائی کروں گاور نہ نہیں ، جب یہ خط ان کا پہنچا تو مجھ کو ان کے حال پر رونا آیا کہ یا الہی ان لوگوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی۔یہ عجیب تحکم ہے کہ ہمارے مخالف ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صریح گالیاں دیں۔طرح طرح کی ناپاک تہمتیں لگاویں یہاں تک کہ نعوذ باللہ ز ناوڈ کیتی وغیرہ کے بہتان اُس پاک ذات کی نسبت شائع کریں اور نہایت بُری باتیں آنجناب کے حق میں کہیں۔اور یہ مولوی ہمیں اس قدر قلم اُٹھانے سے بھی منع کریں کہ ہم بطریق مدافعت ان کا جواب لکھیں اور اُن کی زہرناک باتوں سے لوگوں کو بچاویں اور دستخط کرانے کے لیے یہ شرط ٹھہر اویں کہ مخالف جو چاہیں کریں مگر ہم اپنے پیارے رسول کی عزت کے لیے کچھ بھی غیرت نہ دکھلاویں۔ہائے افسوس یہ کیسا زمانہ ہے۔یہی قیامت کی نشانیاں ہیں۔اگر یہ مولوی صاحب پہلے ہمارے مخالفوں کو اسلام پر حملہ کرنے سے روکتے اُن کی کتابیں اور رسالے اور اخبار میں شائع ہونے سے بند کرا دیتے اور پھر ہمیں بھی بند کرنے کے لیے کہتے یا بالمقابل ان سے بھی بند کرنے کا وعدہ لے لیتے تو ایک بات بھی تھی مگر یہ کس قسم کا تحکم ہے کہ ہم تو پانچ چھ سال تک جب تک گورنمنٹ قانون پاس نہ کرے مخالفوں کی گالیاں اور جھوٹے الزام سُن کر ان کے زہرناک اثر روکنے کے لیے مجاز نہ ہوں مگر وہ لوگ جو چاہیں سو کریں۔پھر جس حالت میں ہماری کتابوں میں صرف واقعات صحیحہ کا بیان ہے اور تمام مخالفوں کی کتابیں بیجا افتراؤں سے بھری ہوئی ہیں تو کیا ہماری کتابوں کو شائع ہونے سے روکنا اور اُن کی کتابوں