مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 97

مجموعہ اشتہارات ۹۷ جلد دوم ایسا تھا کہ نہ صرف اسلام کو مفید تھا بلکہ ہر ایک گروہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا تھا اور ایسی سرگرمی سے یہ اشتہار شائع کئے گئے کہ چند روز میں پانچ ہزار سے کچھ زیادہ مسلمانوں کے دستخط ہو کر میرے پاس پہنچ گئے۔چنانچہ دو ہزار پچہتر دستخط کا ہونا تو میں پہلے ہی شائع کر چکا ہوں اور بعد میں جو دستخط پہنچے ان کے ملانے سے پانچ ہزار کی نوبت پہنچی۔اور مجھے یقین تھا کہ اگر یہ کام دو ماہ تک بھی ہمارے ہاتھ میں رہتا تو پچاس ہزار یا ساٹھ ہزار تک بڑی آسانی سے عرضداشت پر مسلمانوں کے دستخط ہو جاتے اور تین چار ماہ تک تو یقینی اور قطعی امر تھا کہ ایک لاکھ معزز مسلمانوں کے دستخط ہوکر درخواست کو گورنمنٹ کی خدمت میں روانہ کیا جاتا۔مگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ہمارے اشتہارات کے شائع ہونے کے ساتھ ہی ایک اشتہار شائع کر دیا کہ میں اس کام کو بہت جلدی انجام دے دوں گا اور نہ صرف اسی قدر بلکہ گورنمنٹ سے اس کام کو منظور بھی کرادوں گا کیونکہ میرا گورنمنٹ میں نہایت درجہ رسوخ ہے اور درخواست کی کہ تم اس کام سے بکلی کنارہ کش ہو کر یہ کام میرے سپر د کر دو پھر دیکھو کہ کیسی کامیابی میرے ہاتھ سے ہوتی ہے۔سو میں نے مولوی صاحب موصوف کی اس تحریر کو پڑھ کر خیال کیا کہ جس حالت میں انہوں نے یہ وعدہ کر لیا ہے کہ وہ اس قانون کو پاس کرا سکتے ہیں اور بڑے زور سے وعدہ کیا ہے کہ کامیابی کی بڑی امید ہے تو بہتر ہے کہ اُن کی درخواست کے موافق ہم اس کام سے کنارہ کش ہو جائیں اور اُن کی شرط کے موافق اپنا اور اپنی جماعت کا قدم بیچ سے نکال دیں۔چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور ۳۱ اکتوبر ۱۸۹۵ء کو اپنے استعفاء اور کنارہ کشی کا اشتہار شائع کر دیا اور لکھ دیا کہ اب یہ کام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور وہ یقین دلاتے ہیں کہ احسن طور پر اس کام کو انجام دیں گے اور بڑی اُمید دلاتے ہیں کہ حسب مرضی ہمارے قانون توسیع دفعہ ۲۹۸ کو پاس کرا دیں گے۔مگر افسوس کہ آج تک اس پر دو مہینہ سے کچھ زیادہ گذر گئے مگر اب تک کوئی کارروائی ان کی ظہور میں نہیں آئی اور نہ آئندہ آنے کی اُمید ہے کیونکہ پہلے تو انہوں نے بڑے زور شور سے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ۲۱/اکتوبر ۱۸۹۵ء ہونا چاہیے۔بحوالہ مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۵۹ - (ناشر) یہ اشتہار جلد ہذا کے صفحہ ۷ پر زیر نمبر ۳۵ درج ہے۔(ناشر)