مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 89

مجموعہ اشتہارات ۸۹ جلد دوم کہ ایک سال اور بھی گزر گیا اور عبداللہ اھتم اب تک زندہ موجود ہیں۔فقط جولوگ ایسے خیالات شائع کرتے ہیں اُن کی حالت دو صورتوں سے خالی نہیں۔ایک تو یہ کہ شاید اب تک انہوں نے ہمارے رسالہ انوار الاسلام کو بھی نہیں دیکھا جس میں اُن تمام وساوس کا جواب مفصل موجود ہے۔اور دوسری یہ کہ گوانہوں نے رسالہ انوار الاسلام کو دیکھا ہو بلکہ دوسرے تمام اشتہاروں کو بھی دیکھ لیا ہومگر وہ تعصب جو آنکھوں کو اندھا کر دیتا اور دل کو تاریک کر دیتا ہے اس نے دیکھا ہوا بھی ان دیکھا کر دیا۔ہائے افسوس ان لوگوں کی عقل پر، انہوں نے تو انسان بن کر انسانیت کو بھی داغ لگایا۔بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ ہم نے کب اور کس وقت کہا تھا کہ اگر عبد اللہ آتھم ہماری درخواست پر ہمارے سامنے وہ قسم نہیں کھائے گا جس کے الفاظ بارہا ہم نے اپنے اشتہاروں میں شائع کئے ہیں تب بھی وہ ضرور ایک سال تک مرجائے گا اور جبکہ ہم نے ایسا اشتہار کوئی شائع نہیں کیا بلکہ اس کا سال کے اندر فوت ہو جانا قسم کے ساتھ مشروط رکھا تھا۔پس اس صورت میں تو اسکے ایک سال تک نہ مرنے کی وجہ سے ہماری ہی سچائی ثابت ہوئی۔کیونکہ اس نے اپنی اس گریز سے جو رجوع الی الحق پر ایک واضح دلیل تھی گھلا گھلا فائدہ اُٹھالیا۔یہ الزام تو اس وقت زیبا تھا کہ وہ ہمارے مقابل پر میدان میں آکر اس قسم کو بالفاظ کھالیتا جو ہم نے پیش کی تھی اور پھر سال کے اندر فوت نہ ہوتا۔ہم نے تو چار ہزار روپیہ پیش کر کے صاف صاف یہ کہ دیا تھا کہ آتھم صاحب شرطی روپیہ پہلے جمع کرالیں اور جلسہ عام میں تین مرتبہ یہ تم کھائیں کہ پیشگوئی کے دنوں میں ہرگزمیں نے اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا اور ہرگز اسلام کی عظمت میرے دل پر مؤثر نہیں ہوئی۔اور اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو اے قادر خدا ایک سال تک مجھ کو موت دے کر میرا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر۔یہ مضمون تھا جو ہم نے نہ ایک مرتبہ بلکہ کئی مرتبہ شائع کیا۔اور ہم نے ایک ہزار سے چار ہزار تک انعام کی نوبت پہنچائی اور کئی دفعہ کہ دیا تھا کہ یہ زبانی دعوی نہیں۔پہلے روپیہ جمع کرالو اور پھر قسم کھاؤ۔اور اگر ہم روپیہ داخل نہ کریں اور صرف فضول گوئی ثابت ہو تو پھر ہمارے جھوٹے ہونے کے لیے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں لیکن کوئی ہمیں سمجھا دے کہ آتھم نے ان باتوں کا کیا جواب دیا۔کیا وہ میدان میں آیا۔کیا