مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 90
مجموعہ اشتہارات جلد دوم اس نے قسم کھالی۔کیا اس نے ہم سے روپیہ کا مطالبہ کیا۔کیا اُس نے اپنے اس بیان کو بپایہ ثبوت پہنچا دیا کہ میں ایام پیشگوئی میں ڈرتا تو ضرور رہا مگر اسلام کی عظمت سے نہیں بلکہ تین حملے بندوقوں اور تلواروں والوں نے میرے پر کئے۔جن میں سے پہلاحملہ تعلیم یافتہ سانپ کا تھا جس نے امرتسر سے نکالا۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ اس الہام کا صاف یہ مطلب تھا کہ صرف اس صورت میں آتھم صاحب پندرہ مہینہ میں ہاویہ میں گرائے جائیں گے کہ جب وہ حق کی طرف رجوع نہیں کریں گے۔اور آپ لوگوں کو اس بات کا بھی اقرار کرنا عقلاً و انصافاً ضروری ہے کہ اگر یہ بات سچ ہے کہ انہوں نے رجوع بق کیا تھا تو پھر اس کا لازمی نتیجہ یہی تھا کہ وہ مرنے سے محفوظ رکھا جاتا۔کیونکہ اگر تب بھی مر جاتا تو اس میں کیا شک ہے کہ اس صورت میں پیشگوئی کی شرط جھوٹی ٹھہرتی۔بلکہ پیشگوئی ہی باطل ثابت ہوتی۔وجہ یہ کہ پیشگوئی کا مفہوم یہی چاہتا تھا کہ شرط کے پوری کرنے کی حالت میں ضرور آتھم میعاد معینہ میں زندہ رہے۔اب جبکہ یہ امر طے ہو گیا کہ پیشگوئی صرف موت کی ہی خبر نہیں دیتی تھی بلکہ اپنے دوسرے پہلو سے آتھم کو اس کی حیات کی بھی خوشخبری دیتی تھی اور شرط کے بجالانے کے وقت اس کا زندہ رہنا ایسا ہی پیشگوئی کی سچائی پر دلالت کرتا تھا جیسا کہ اس صورت میں دلالت کرتا کہ وہ بوجہ عدم پابندی شرط فوت ہو جاتا تو پھر یہ کیسی ہٹ دھرمی ہے کہ پیشگوئی کی شرط کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور نہ خدا سے ڈرتے ہیں اور نہ اُس ذلّت سے جو انصاف کو چھوڑنے کی حالت میں لعنت کی طرح دامنگیر ہو جاتی ہے۔صاحبوا اگر پہلے نہیں سمجھا تو اب سمجھ لو کہ یہ پیشگوئی درحقیقت دو پہلو رکھتی تھی جس کی تاثیر نہ صرف مرنا تھا بلکہ دوسرے پہلو کے لحاظ سے زندہ رہنا اور موت سے بچ جانا بھی اس کی ضروری تاثیر تھی۔پھر اگر ہمارے مخالفوں اور جلد بازوں کے دلوں میں انصاف ہوتا تو صرف عدم موت پر سیا پا نہ کیا جا تا بلکہ شرط کے مفہوم کو تنقیح طلب امر ٹھہراتے۔یعنی یہ امر کہ آیا آتھم نے حق کی طرف رجوع کیا یا نہیں پھر اگر دیکھتے کہ اس کے اُن حالات سے جو اُس نے پیشگوئی کے اثناء میں ظاہر کئے۔اور ان حالات سے جو مطالبہ قسم کے وقت اُس نے دکھلائے رجوع ثابت نہیں ہوتا تو جس طرح چاہتے شور