مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 85
مجموعہ اشتہارات ۸۵ جلد دوم کی ہی انتظار کی جائے۔بلکہ ہر ایک شخص کو چاہیے تھا کہ شرط کے مضمون پر بھی غور کرتا اور آتھم صاحب کے حال اور قال کو جانچتا کہ کیا وہ پیشگوئی کے بعد اپنے پہلے استقلال اور استقامت اور متعصبانہ وضع پر قائم رہے یعنی انہوں نے اپنی ثابت قدمی اور عادت معہود کا مرکز نہ چھوڑا، لیکن افسوس کہ باوجوداس کے کہ آتھم صاحب سے بہت سی بے قراریاں ظاہر ہوئیں اور بہت سے قوی قرائن ان کی خوف زدہ حالت پر پیدا ہوئے لیکن ان کی طرف سے ان خوفوں کی نسبت بیہودہ عذرات کا کوئی ثبوت بھی پیش نہ ہوا۔یہاں تک کہ انہوں نے قسم بھی نہیں کھائی۔مگر عیسائی صاحبان اب تک پیشگوئی کی نسبت یہی خیال کرتے ہیں کہ وہ پوری نہیں ہوئی۔یہ بیچارے ذرہ نہیں سوچتے کہ کیا اس پیشگوئی کا پورا ہونا صرف ایک پہلو رکھتا تھا یا دو پہلو میں سے کسی ایک پر پوری آسکتی تھی۔اگر آتھم صاحب کی پہلی حالت میں کچھ بھی تزلزل نہ آتا اور نہ وہ خوف کا اقرار کرتے تو موت کا پہلو پیشگوئی کے واقعہ ہو جانے کی ضروری نشانی ہوتی، لیکن جبکہ اُن کا ڈرنا ثابت ہو گیا اور وہ وجوہ خوف کے ثابت نہ ہو سکے جو آتھم صاحب نے پیش کئے تھے۔تو رجوع الی الحق کا پہلو پایہ ثبوت پہنچ گیا جس کے ساتھ پیشگوئی کا پورا ہونا اس بات میں محصور ہو گیا کہ آتھم صاحب موت سے بچ جاویں۔ہم نے رسالہ ضیاء الحق میں یہ باتیں تفصیل سے لکھ دی ہیں۔ہر ایک صاحب اس کو غور سے پڑھ لیں لیکن اب اس اشتہار کے شائع کرنے کا یہ موجب ہے کہ ہمارے ایک مخلص دوست مولوی عبدالکریم صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ان دنوں میں بٹالہ کے سٹیشن پر پادری فتح مسیح سے ان کی ملاقات ہوئی اور پادری صاحب نے آتھم صاحب کا ذکر کر کے فرمایا کہ انہوں نے قسم کھانے سے اس وجہ سے انکار کیا ہے کہ یہ جماعت ایک حقیر اور ذلیل جماعت ہے جن کی تعداد چار پانچ یا زیادہ سے زیادہ پندرہ آدمی ہوں گے۔۔ان کے مقابل پر کیا قسم کھاویں۔اور بجز اُن کے تمام مسلمان یہی یقین رکھتے ہیں کہ آتھم صاحب فتح یاب ہو گئے ہیں پس چونکہ یہ تقریر فتح مسیح صاحب کی سراسر واقعہ کے برخلاف ہے اور آتھم صاحب نے ہرگز یہ عذر نہیں کیا۔اور یہ بھی سراسر جھوٹ ہے کہ ہماری جماعت صرف پندرہ آدمی ہیں