مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 84

مجموعه اشتہارات ۸۴ (۱۴۶) جلد دوم مسٹر آتھم صاحب اور پادری فتح مسیح یہ بات ناظرین کو معلوم ہے کہ ہم اس وقت تک پانچ اشتہار اس بارے میں نکال چکے ہیں کہ در حقیقت وہ ہماری پیشگوئی جو آتھم صاحب کے متعلق تھی پوری ہو گئی چاہیے تھا کہ عیسائی صاحبان اپنی تم ہوگئی تھا غلطی سے رجوع کرتے اور پیشگوئی کے پورا ہونے کا اقرار شائع کر دیتے ۔ ان پر اس بات کا سمجھنا نہایت آسان تھا کہ پیشگوئی کے ساتھ رجوع الی الحق کی شرط لگی ہوئی تھی اور آتھم صاحب سے ایسی حرکات صادر ہو گئیں تھیں کہ جو بآواز بلند پکار رہی تھیں کہ شرط پوری ہوگئی اور انہوں نے پیشگوئی کے بعد اپنے ڈرتے رہنے کا اقرار صاف لفظوں میں کر دیا تھا اور اُن باتوں کا اب تک انہوں نے ثبوت نہیں دیا تھا۔ جو اپنے خوف کی بنیاد انہوں نے قرار دی تھیں یعنی سانپ کا حملہ اور تلواروں اور نیزوں والوں کا حملہ۔ سو بالضرور یہ بات گھل گئی تھی کہ وہ صرف پیشگوئی سے ہی ڈرتے رہے اور تنزل کے طور پر آتھم صاحب کو یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر وہ اپنے بے دلیل دعووں کا کوئی اور ثبوت نہیں دے سکتے تو وہ قسم ہی کھا جائیں مگر انہوں نے قسم کھانے سے بھی انکار کیا۔ اب اس سے زیادہ ان کے جھوٹ کھلنے پر اور کیا دلیل ہو سکتی تھی کہ انہوں نے خود اپنے منہ سے خوف کا اقرار کر کے اور اپنے خیال سے وہ خوف دکھلا کر پھر یہ ثبوت نہیں دیا کہ ان کا وہ خوف پیشگوئی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ان حملوں کی وجہ سے تھا جو سے اُن پر کئے گئے اور نہ قسم کھائی۔ الہامی شرط خود بتلا رہی تھی کہ اس پیشگوئی میں رجوع الی الحق ممکنات میں سے ہے۔ تبھی تو الہام میں یہ شرط داخل کی گئی تھی۔ اور یہ نہایت غلطی تھی کہ باوجود شرط کے صرف مرنے