مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 76
سے حقیّتِ اسلام ثابت کی گئی ہے اور ہرایک مخالف کے عقائدِ باطلہ کا ایسا استیصال کیا گیا ہے کہ گویا اس مذہب کو ذبح کیا گیا کہ پھر زندہ نہیں ہوگا۔اِس کتاب کے بارے میں بجز چند عالی ہمت مسلمانوں کے جن کی توجہ سے دو حصے اور کچھ تیسرا حصہ چھپ گیا۔جو کچھ اور لوگوں نے اعانت کی وہ ایسی ہے کہ اگر بجائے تصریح کے صرف اسی پر قناعت کریں کہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ تو مناسب ہے۔اَیُّھَا الْاَخْوَانُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔مَالَکُمْ لَا تَتَوَجَّھُوْنَ۔شَوَّقْنَاکُمْ فَلَمْ تَشْتَاقُوْا۔وَنَبَّھْنَاکُمْ فَلَمْ تَتَنَبَّھُوْا۔اِسْمَعُوْا عِبَادَاللّٰہِ اِسْمَعُوْا۔اُنْصُرُوْا تُوْجَرُوْا۔وَفِی الْاَنْصَارِ تُبْعَثُوْا۔وَفِی الدَّارَیْنِ تُرْحَمُوْا۔وَفِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ تَقْعُدُوْا۔رَحِمَنَا اللّٰہُ وَاِیَّاکُمْ ھُوَ مَوْلَانَا نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ۔اور اگر کوئی اب بھی متوجہ نہ ہو تو خیر ہم بھی ارحم الراحمین سے کہتے ہیں اور اُس کے پاک وعدے ہم غریبوں کو تسلّی بخش ہیں اور اس جگہ یہ امر بھی واجب الاطلاع ہے کہ پہلے یہ کتاب صرف تیس پینتیس جز تک تالیف ہوئی تھی اور پھر سو جُز تک بڑھا دی گئی اور دسروپیہ عام مسلمانوں کے لئے اور پچیس روپیہ دوسری قوموں اور خواص کے لئے مقرر ہوئے مگر اب یہ کتاب بو جہ احاطہ جمیع ضروریاتِ تحقیق و تدقیق اور اتمام حجت کے لئے تین سو جز تک پہنچ گئی ہے جس کے مصارف پر نظر کرکے یہ واجب معلوم ہوتا تھا کہ آئندہ قیمت کتاب سو روپیہ رکھی جائے مگر بباعث پست ہمتی اکثر لوگوں کے یہی قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اب وہی قیمت مقررہ سابقہ کہ گویا کچھ بھی نہیں ایک دوامی قیمت قرار پاوے۔اور لوگوں کو اُن کے حوصلہ سے زیادہ تکلیف دے کر پریشان خاطر نہ کیا جاوے لیکن خریداروں کو یہ استحقاق نہیں ہوگا کہ جو بطور حق واجب کے اس قدر اجزاء کا مطالبہ کریں بلکہ جو اجزاء زائد از حَقِّ واجب ان کو پہنچیں گی وہ محض لِلّٰہ فِی اللّٰہ ہوں گی اور ان کا ثواب ان لوگوں کو پہنچے گا کہ جو خالصاً لِلّٰہ اس کام کے انجام کے لئے مدد کریں گے اور واضح رہے کہ اب یہ کام صرف ان لوگوں کی ہمت سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا کہ جو مجرد خریدار ہونے کی و جہ سے ایک عارضی جوش رکھتے ہیں۔بلکہ اس وقت کئی ایک ایسے عالی ہمتوں کی توجہات کی حاجت ہے کہ جن کے دلوں میں ایمانی غیوری کے باعث سے حقیقی اور واقعی جوش ہے اور جن کا بے بہا ایمان صرف خرید و فروخت کے تنگ ظرف میں