مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 68

مجموعه اشتہارات ۶۸ جلد اول سے محروم رکھنا چاہتے ہیں اور با وصفیکہ ہم نے پہلے حصہ کے پرچہ من بہ منضمہ میں وجوہ ضرورت کتاب موصوف کی بیان کر دی تھیں پھر بھی بمقتضائے فطرتی خاصیت اپنی کے نیش زنی کر رہے ہیں ناچار اس اندیشہ سے کہ مبادا کوئی شخص ان کی واہیات باتوں سے دھوکا نہ کھاوے پھر کھول کر بیان کیا جاتا ہے کہ کتاب براہین احمد یہ بغیر اشد ضرورت کے نہیں لکھی گئی۔ جس مقصد اور مطلب کے انجام دینے کے لئے ہم نے اس کتاب کو تالیف کیا ہے اگر وہ مقصد کسی پہلی کتاب سے حاصل ہو سکتا تو ہم اسی کتاب کو کافی سمجھتے اور اسی کی اشاعت کے لئے بدل و جان مصروف ہو جاتے اور کچھ ضرور نہ تھا جو ہم سالہا سال اپنی جان کو محنت شدید میں ڈال کر اور اپنی عمر عزیز کا ایک حصہ خرچ کر کے پھر آخر کار ایسا کام کرتے جو محض تحصیل حاصل تھا لیکن جہاں تک ہم نے نظر کی ہم کو کوئی کتاب ایسی نہ ملی جو جامع ان تمام دلائل اور براہین کی ہوتی کہ جن کو ہم نے اس کتاب میں جمع کیا ہے اور جن کا شائع کرنا بغرض اثبات حقیت دین اسلام کے اس زمانہ میں نہایت ضروری ہے تو نا چار واجب دیکھ کر ہم نے یہ تالیف کی اگر کسی کو ہمارے اس بیان میں شبہ ہو تو ایسی کتاب کہیں سے نکال کر ہم کو دکھا دے تا ہم بھی جانیں ور نہ بیہودہ بکواس کرنا اور ناحق بندگان خدا کو ایک چشمہ فیض سے روکنا بڑا عیب ہے۔ مگر یادر ہے جو اس مقولہ سے کسی نوع کی خودستائی ہمارا مطلب نہیں جو تحقیقات ہم نے کی اور پہلے عالی شان فضلاء نے نہ کی یا جو دلائل ہم نے لکھیں اور انہوں نے نہ لکھیں یہ ایک ایسا امر ہے جو زمانہ کے حالات سے متعلق ہے نہ اس سے ہماری ناچیز حیثیت بڑھتی ہے اور نہ ان کی بلند شان میں کچھ فرق آتا ہے انہوں نے ایسا زمانہ پایا کہ جس میں ابھی خیالات فاسدہ کم پھیلے تھے اور صرف غفلت کے طور پر باپ دادوں کی تقلید کا بازار گرم تھا سو ان بزرگوں نے اپنی تالیفات میں وہ روش اختیار کی جو ان کے زمانہ کی اصلاح کے لئے کافی تھی ۔ ہم نے ایسا زمانہ پایا کہ جس میں بباعث زور خیالات فاسدہ کے وہ پہلی روش کافی نہ رہی بلکہ ایک پر زور تحقیقات کی حاجت پڑی جو اس وقت کی شدت فساد کی پوری پوری اصلاح کرے یہ بات یاد رکھنی چاہیے جو کیوں از منہ مختلفہ میں تالیفات جدیدہ کی حاجت پڑتی ہے اس کا باعث یہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا یعنی کسی زمانہ میں مفاسد کم اور کسی میں زیادہ ہو جاتے ہیں