مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 69

اور کسی وقت کسی رنگ میں اور کسی وقت کسی رنگ میں پھیلتے ہیں اب مؤلف کسی کتاب کا جو ان خیالات کو مٹانا چاہتا ہے اس کو ضرور ہوتا ہے جو وہ طبیب حاذق کی طرح مزاج اور طبیعت اور مقدار فساد اور قسم فساد پر نظر کرکے اپنی تدبیر کو عَلٰی قَدْرِ مَا یَنْبَغِیْ وَ عَلٰی نَحْوِ مَا یَنْبَغِیْ عمل میں لاوے۔اور جس قدر یا جس نوع کا بگاڑ ہوگیا ہے اسی طور سے اس کی اصلاح کا بندوبست کرے اور وہی طریق اختیار کرے کہ جس سے احسن اور اسہل طور پر اس مرض کا ازالہ ہوتا ہو کیونکہ اگر کسی تالیف میں مخاطبین کے مناسب حال تدارک نہ کیا جائے تو وہ تالیف نہایت نکمی اور غیر مفید اور بے سود ہوتی ہے اور ایسی تالیف کے بیانات میں یہ زور ہرگز نہیں ہوتا جو منکر کی طبیعت کے پورے گہرائو تک غوطہ لگا کر اس کے دلی خلجان کو بکلی مستاصل کرے پس ہمارے معترضین اگر ذرا غور کرکے سوچیں گے تو ان پر بہ یقین کامل واضح ہوجائے گا کہ جن انواع و اقسام کے مفاسد نے آج کل دامن پھیلا رکھا ہے ان کی صورت پہلے فسادوں کی صورت سے بالکل مختلف ہے وہ زمانہ جو کچھ عرصہ پہلے اس سے گزر گیا ہے وہ جاہلانہ تقلید کا زمانہ تھا۔اور یہ زمانہ کہ جس کی ہم زیارت کررہے ہیں یہ عقل کی بداستعمالی کا زمانہ ہے۔پہلے اس سے اکثر لوگوں کو نامعقول تقلید نے خراب کر رکھا تھا اور اب فکر اور نظر کی غلطی نے بہتوں کی مٹی پلید کردی ہے یہی و جہ ہے کہ جن دلائل عمیقہ اور براہین قاطعہ لکھنے کی ہم کو ضرورتیں پیش آئیں وہ ان نیک اور بزرگ عالموں کو کہ جنہوں نے صرف جاہلانہ تقلید کا غلبہ دیکھ کر کتابیں لکھی تھیں پیش نہیں آئی تھیں ہمارے زمانہ کی نئی روشنی (کہ خاک برفرق ایں روشنی) نو آموزوں کی روحانی قوتوں کو افسردہ کررہی ہے۔ان کے دلوں میں بجائے خدا کی تعظیم کے اپنی تعظیم سما گئی ہے اور بجائے خدا کی ہدایت کے آپ ہی ہادی بن بیٹھے ہیں۔اگرچہ آج کل تقریباً تمام نو آموزوں کا قدرتی میلان وجوہات عقلیہ کی طرف ہوگیا ہے لیکن افسوس کہ یہی میلان بباعث عقل نا تمام اور علم خام کے بجائے رہبر ہونے کے رہزن ہوتا جاتا ہے اور فکر اور نظر کی کجروی نے لوگوں کے قیاسات میں بڑی بڑی غلطیاں ڈال دی ہیں اور مختلف رایوں اور گوناگوں خیالات کے شائع ہونے کے باعث سے کم فہم لوگوں کے لئے بڑی بڑی دقتیں پیش آگئی ہیں سو فسطائی تقریروں نے نو آموزوں کی طبائع میں طرح طرح کی پیچیدگیاں پیدا