مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 61
سو ہم سچ پر ہیں۔ہمارے سامنے کسی پادری یا پنڈت کی کیا پیش جاسکتی ہے اور کسی کی نری زبان کی فضول گوئی سے ہمارا کیا بگڑ سکتا ہے۔بلکہ ایسی باتوں سے خود پادریوں اور پنڈتوں کی دیانتداری کھلتی جاتی ہے کیونکہ جس کتاب کو ابھی نہ دیکھا اور نہ بھالا نہ اُس کی براہین سے کچھ اطلاع نہ اُس کے پایۂ تحقیقات سے کچھ خبر اُس کی نسبت جھٹ پٹ مونہہ کھول کر ردّ نویسی کا دعویٰ کردینا کیا یہی اُن لوگوں کی ایمانداری اور راستبازی ہے؟ اے حضرات! جب آپ لوگوں نے ابھی میری دلائل کو ہی نہیں دیکھا تو پھر آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ آپ ان تمام دلائل کا جواب لکھ سکیں گے؟ جب تک کسی کی کوئی حجت نکالی ہوئی یا کوئی برہان قائم کی ہوئی یا کوئی دلیل لکھی ہوئی معلوم نہ ہو اور پھر اس کو جانچا نہ جائے کہ یقینی ہے یا ظنی اور مقدمات صحیحہ پر مبنی ہے یا مغالطات پر تب تک اس کی نسبت کوئی مخالفانہ رائے ظاہر کرنا اور خواہ نخواہ اس کے ردّ لکھنے کے لئے دَم زَنی کرنا اگر تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟ اور جب آپ لوگوں نے قبل از دریافت اصل حقیقت ردّ لکھنے کی پہلے ہی ٹھہرالی تو پھر کب نفس امّارہ آپ کا اس بات سے باز آنے کا ہے جو بات بات میں فریب اور تدلیس اور خیانت اور بددیانتی کو کام میں لایا جائے تا کسی طرح یہ فخر حاصل کریں کہ ہم نے جواب لکھ دیا۔اگر آپ لوگوں کی نیت میں کچھ خلوص اور دل میں کچھ انصاف ہوتا تو آپ لوگ یوں اعلان دیتے کہ اگر دلائل کتاب کی واقع میں صحیح اور سچی ہوں گی تو ہم بسروچشم ان کو قبول کریں گے۔ورنہ اظہار حق کی غرض سے ان کی ردّ لکھیں گے۔اگر آپ ایسا کرتے تو بے شک منصفوں کے نزدیک منصف ٹھہرتے اور صاف باطن کہلاتے۔لیکن خدا نہ کرے کہ ایسے لوگوں کے دلوں میں انصاف ہو جو خدا کے ساتھ بھی بے انصافی کرتے ہوئے نہیں ڈرتے اور بعض نے اس کو خالق ہونے سے ہی جواب دے رکھا ہے اور بعض ایک کے تین بنائے بیٹھے ہیں اور کسی نے اُس کو ناصرہ میں لا ڈالا ہے اور کوئی اس کو اجودھیا کی طرف کھینچ لایا ہے۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ آپ سب صاحبوں کو قسم ہے کہ ہمارے مقابلہ پر ذرا توقف نہ کریں افلاطون بَن جاویں، بیکن کا اوتار دھاریں، ارسطو کی نظر اور فکر لاویں، اپنے مصنوعی خدائوں کے آگے