مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 596
(عین ان ایام میں کہ ہندوستان میں آتش فساد اور مفسدہ پھیل رہی تھی اور قدرتی اتفاق سے رعایا کے لیے یہ موقعہ پیش آیا تھا کہ وہ اس بات میں آزمائی جائیں کہ کہاں تک وہ گورنمنٹ برطانیہ کے خیر خواہ ہیں) اپنے افعال سے صاف طور پر بار بار حکام پر ظاہر کر دیا کہ ہم تمام مال و جان سے اپنی طاقت اور حیثیت کے موافق گورنمنٹ برطانیہ کی امداد کے لیے حاضر ہیں۔اور نہ صرف یہی بلکہ پچاس۵۰ گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اور پچاس۵۰ سوار بھی بہم پہنچا کر ۱۸۵۷ء کے شور و شر کے وقت میں گورنمنٹ کی نذر کئے۔اور پھر دوسری مرتبہ چودہ۱۴ گھوڑے نذر کئے۔اور اسی طرح وہ اور وقتوں میں بھی خدمات گورنمنٹ میں مشغول رہے اور وقتاً فوقتاً خوشنودی کی چٹھیات پاتے رہے اور انعام بھی ملتے رہے ۱؎ اور چالیس برس اپنی عمر عزیز کے انہی خدمات میں انہوں نے بسر کئے اور پھر بعد اُن کے انتقال کے میرا بڑا بھائی میرزا غلام قادر خدمات گورنمنٹ میںمشغول رہا۔اور پھر ان کے بعد مَیں ایک گوشہ نشین آدمی تھا جس کی دنیوی طریق پر زندگی نہیں تھی اور نہ اس کے کامل اسباب مہیا تھے۔تا ہم میں نے برابر ۱۶ برس سے یہ اپنے حق واجب ٹھیرا لیا کہ اپنی قوم کو اس گورنمنٹ کی خیرخواہی کی طرف بلاؤں اور ان کو سچّی اطاعت کی طرف ترغیب دوں۔چنانچہ مَیں نے اس مقصد کی انجام دہی کے لیے اپنی ہریک تالیف میں یہ لکھنا شروع کیا ۲؎ کہ اس گورنمنٹ کے ساتھ کسی طرح مسلمانوں کو جہاد درست نہیں۔اور نہ صرف اس قدر بلکہ بار بار اس بات پر زور دیا کہ چونکہ گورنمنٹ برطانیہ برٹش انڈیا کی رعایا کی محسن ہے اس لیے مسلمانان ہند پر لازم ہے کہ نہ صرف اتنا ہی کریں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے مقابل پر بد ارادوں سے رُکیں بلکہ اپنی سچی شکر گذاری اور ہمدردی کے نمونے بھی گورنمنٹ کو دکھلاویں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ۳؎ یعنی ۱؎ نوٹ:۔سر لیپل گریفن کی کتاب تذکرہ رئیسان پنجاب میں میرے والد صاحب کا مفصّل ذکر ہے۔یاد رہے کہ میرے والد صاحب کا نام میرزا غلام مرتضیٰ اور ان کے والد کا نام میرزا عطا محمد ہے۔منہ ۲؎ نوٹ:۔دیکھو براہین احمدیہ۔شہادۃ القرآن۔سرمہ چشم آریہ۔آئینہ کمالات اسلام۔حمامۃ البشریٰ۔نور الحق وغیرہ