مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 575 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 575

ضرورت نہ ہوتی۔قانون شہادت میں ایک انگریز نے یہ بات خوب لکھی ہے کہ اگر فلاں تاجر جو کروڑہا روپیہ کی مالی عزت رکھتا ہے اور صدہا روپیہ روز صدقہ کے طور پر دیتا ہے اگر کسی پر ایک پیسہ کا دعویٰ کرے تو گو وہ کیسا ہی متمول اور مخیر اور سخی سمجھا گیا ہے مگر بغیر کامل شہادت کے ڈگری نہیں ہوسکتی۔تو اب بتلائو کہ آتھم صاحب کا یک طرفہ بیان جو صرف دعویٰ کے طور پر اغراض نفسانیہ سے بھرا ہوا اور روئداد موجودہ کے مخالف ہے کیونکر قبول کیا جائے اور کون سی عدالت اس پر اعتماد کر سکتی ہے یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ صرف ہمارے الہام پر مدار نہیں رہا بلکہ آتھم صاحب نے خود موت کے نوٹ۔ایک صاحب پشاور سے لکھتے ہیں کہ اگر عذاب کی پیشگوئی رجوع بدل کرنے سے ٹل جاتی ہے تو وہ ہرگز میعار صداقت نہیں ٹھہر سکتی اور اس پر تحدی نہیں ہو سکتی۔مگر افسوس کہ وہ نہیں سمجھتے کہ عند اللہ انکار قسم بھی جب منکر پر قسم انصافاً واجب ہو ایک میعار صداقت ہے جس کو کتاب اللہ نے منکر پر حد شرعی جاری کرنے کے لئے معتبر سمجھا ہے پھر جس شخص نے چارہزار روپیہ تک اتمام حجت کی رقم لے کر قسم کھانے کے لئے جرأت نہ کی تو کیا اس نے اپنے افعال سے ثابت نہ کردیا کہ ضرور اس نے رجوع بحق کیا تھا اور جس قانونی مطالبہ سے یعنی قسم سے ملزم نے سخت گریز کی تو کیا وہ معیار صداقت نہیں اور کیا وہ اب تک ایسا رجوع رہا جس پر کوئی بھی دلیل نہیں اور یہ کہنا کہ اب تک وہ انکار کئے جاتا ہے کیسی بدفہمی ہے اگر وہ حقیقی طور پر منکر ہوتا تو پھر ایسی قسم کے کھانے سے جس کا کھانا اس پر انصافاًواجب تھا کیوں گریز کرتا پس اس کا قسم نہ کھانا یہی اقرار ہے جس کو عقل سلیم سمجھتی ہے اور یہ کہنا کہ اس کی کوئی نظیر نہیں یہ دوسری نافہمی ہے۔مماثلت کی نظیریں بتلا دی گئی ہیں غور سے پڑھو اور یہ کہنا کہ ایک جھوٹا بھی ایسی پیشگوئی موت کی کر کے آخر عدم وقوع کے وقت یہ عذر پیش کرسکتا ہے کہ دلی رجوع کے باعث عذاب ٹل گیا ہے یہ بھی انصاف اور تدبر سے بعید ہے بلکہ حق اور ایمان کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی اور شخص بھی ایسی ہی پیشگوئی کرے اور یہی تمام واقعات ہوں تو قانون انصاف سے بعید ہوگا کہ ایسے شخص کو ہم کاذب کہیں جس کا صدق ملزم کے گریز سے ظاہر ہو رہا ہو بلکہ جھوٹا وہی کہلائے گا جو اس مطالبہ سے گریز کرے جو انصافاًاس پر عائد ہوتا ہے یعنی قسم نہ کھاوے پھر خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی کو صرف یہاں تک تو محدود نہیں رکھا اور اس کے کاموں میں عمیق حکمتیں اور مصالح ہیں اور انجام نمایاں فتح ہے پس ان پر افسوس جو جلد بازی سے اپنے ایمان اور عاقبت کو برباد کر رہے ہیں اور جس قدر ایک کسان مولی گاجر کا بیج بو کر ایک وقت تک مولیوں گاجروں کی انتظار کرتا ہے ان لوگوں میں اتنا بھی صبر نہیں۔منہ