مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 576
خوف کا اقرار اخباروں میں چھپوا دیا اور جابجا خطوط میں اقرار کیا۔اب یہ بوجھ آتھم صاحب کی گردن پر ہے کہ اپنے اقرار کو بے ثبوت نہ چھوڑیں بلکہ قسم کے طریق سے جو ایک سہل طریق ہے اور جو ہمارے نزدیک قطعی اور یقینی ہے ہمیں مطمئن کردیں کہ وہ پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرے بلکہ وہ فی الحقیقت ہمیں ایک خونی انسان یقین کرتے اور ہماری تلواروں کی چمک دیکھتے تھے اور ہم انہیں کچھ بھی تکلیف نہیں دیتے بلکہ اس قسم پر ۱؎ چار ہزار روپیہ بشرائط اشتہار ۹؍ ستمبر ۱۸۹۴ء و ۲۰؍ ستمبر ۱۸۹۴ء ان کی نذر کریں گے اور ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کا یہ عذر کہ مسیحیوں کو قسم کھانے کی ممانعت ہے سخت ہٹ دھرمی اور بے ایمانی ہے۔کیا پطرس اور پولس اور بہت سے عیسائی راست باز جو اول زمانہ میں گذر چکے مسیحی نہیں تھے یا وہ بے ایمان تھے کیا آتھم صاحب اس گورنمنٹ میں کسی ایک معزز عیسائی کا حوالہ دے سکتے ہیں جس نے شہادت کے لئے حاضر ہوکر قسم کھانے سے انکار کیا ہو۔اب مناسب ہے کہ اگر آتھم صاحب کو بہرحال حیلہ سازی ہی پسند ہے اور کسی طرح قسم کھانا نہیں چاہتے تو اس عذر بے ہودہ کو اب چھوڑ دیں کہ قسم کھانا ممنوع ہے کیونکہ پورے طور پر ہم نے اس کی بیخ کنی کر دی ہے بلکہ چاہیے کہ اپنے دجالوں کے مشورہ سے جان بچانے کے لئے کوئی نیا عذر پیش کریں اور نیم عیسائی یاد رکھیں کہ آتھم صاحب کبھی قسم نہیں کھائیں گے بلکہ اس عذر کو چھوڑ کر کوئی اور دجّالی حیلہ نکالیں گے کیونکہ ہماری نسبت وہ اپنے دل میں جانتے ہیں کہ ہم سچے اور ہمارا الہام سچا ہے لیکن کوئی عذر پیش نہیں جائے گا جب تک میدان میں آکر ہمارے روبرو آکر قسم نہ اٹھاویں یقیناً آتھم صاحب تمام پادریوں اور نیم عیسائیوں کے منہ پر سیاہی مل رہے ہیں جو قسم نہیں کھاتے۔ایک عیسائی صاحب لکھتے ہیں کہ روپیہ دینا صرف لاف و گزاف ہے۔یعنی آتھم صاحب قسم تو کھالیں مگر ان کو یہ دھڑکہ ہے کہ روپیہ نہیں ملے گا۔سو یاد رہے کہ یہ بالکل فضول گوئی اور ڈوموں کی طرح صرف رندانہ کلام ہے ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم قسم کھانے سے پہلے باضابطہ تمسک لے کر ۱؎ نوٹ : یہ چار ہزار ۴۰۰۰روپیہ آتھم صاحب کی درخواست آنے کے بعد پانچ ہفتہ میں ان کے پاس حاضر کیا جائے گا۔منہ