مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 572
مجموعه اشتہارات ۵۷۲ جلد اول بد دیانتی کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ اپنے نفس کے بچاؤ کے لئے اپنے بزرگوں کو بھی دولت ایمان سے بے نصیب قرار دیتے ہیں اگر آتھم صاحب جان بچانے کے لئے صرف یہ بہانہ کرتے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ میں سال تک مر نہ جاؤں تو اس صورت میں لوگوں کو فقط اتنا ہی خیال ہوتا کہ اس شخص کا ایمان مسیح کی طاقت اور قدرت پر ضعیف ہے اور در حقیقت اپنے دل میں اس کو قادر نہیں سمجھتا لیکن آتھم صاحب کا یہ ممانعت قسم کا بہانہ ان کی بد دیانتی اور ردی حالت کی کھلے طور پر قلعی کھولتا ہے کیونکہ اس بہانہ کو کوئی بھی باور نہیں کر سکتا کہ مسیح کے تمام حواری اور پولس رسول ممنوعات انجیل میں گرفتار ہو کر ایمانی دولت سے بے نصیب رہے اور یہ ایمان آتھم صاحب کے ہی حصہ میں آیا اور پھر مجھے یہ دعوئی بھی سراسر جھوٹ معلوم ہوتا ہے کہ آتھم صاحب نے اب تک کسی عدالت میں قسم نہیں کھائی اور تمام حکام اس بات پر راضی رہے کہ آتھم صاحب کسی شہادت کے ادا کرنے کے وقت بغیر قسم اظہار لکھوا دیا کریں اور نہ میں یہ باور کر سکتا ہوں کہ اگر آتھم صاحب اب بھی کسی شہادت کے لئے بلائے جائیں تو یہ عذر پیش کریں کہ چونکہ میں پارلیمنٹ کے ممبروں اور تمام متعہد عیسائی ملازموں حتی کہ گورنر جنرل سے بھی زیادہ ایماندار ہوں اس لئے ہر گز فتم نہیں کھاؤں گا۔ آتھم صاحب خوب جانتے ہیں کہ بائیبل میں نبیوں کی قسمیں بھی مذکور ہیں خود مسیح قسم کا پابند ہوا دیکھومتی ۲۷ باب ۶۳ آیت خدا نے قسم کھائی۔ دیکھو اعمال کے باب ۶ آیت ۱۷۔ اور خدا کا قسم کھانا بموجب عقیدہ عیسائیوں کے مسیح کا قتسم کھانا ہے کیونکہ بقول ان کے دونوں ایک ہیں اور جو شخص مسیح کے نمونہ پر اپنی عادات اور اخلاق نہیں رکھتا وہ مسیح میں سے نہیں ہے۔ اور یرمیا کی تعلیم کی رو سے قسم کھانا عبادت میں داخل ہے دیکھو پر میا باب ۴ آیت ۲۔ اور زبور میں لکھا ہے کہ جو جھوٹا ہے وہی قسم نہیں کھاتا۔ دیکھوز بور ۶۳ آیت ۱۱۔ سو آتھم صاحب کے جھوٹا ہونے پر داؤد نبی حضرت عیسیٰ کے دادا صاحب بھی گواہی دیتے ہیں۔ فرشتے بھی قسم کھاتے ہیں دیکھو مکا شفات ۱۰/۶ پھر عبرانیوں کے چھ باب ۱۶ آیت میں مسیحیوں کا معلم کہتا ہے کہ ہر یک قضیہ کی حد قسم ہے یعنی ہر ایک جھگڑا آخر قسم پر فیصلہ پاتا ہے۔ توریت میں خدا نے برکت دینے کے لئے قسم کھائی۔ دیکھو پیدائش ۲۲/۱۶ اور پھر اپنی حیات کی قسم کھائی۔ غرض کہاں