مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 566
برابر بندہ پرست ۱؎ ہی رہے کیونکہ جبکہ ڈرنے کا ان کو خود اقرار ہے چنانچہ وہ اس اقرار کو کئی مرتبہ رو رو کر ظاہر کر چکے ہیں تو اب یہ بار ثبوت انہیں کی گردن پر ہے کہ وہ الہامی پیشگوئی اور اسلامی صداقت سے نہیں ڈرے بلکہ اس لئے ڈرتے رہے کہ ان کو متواتر یہ تجربہ ہو چکا تھا کہ اس پیشگوئی سے پہلے اس عاجز نے ہزاروں کا خون کر دیا ہے اور اب بھی اپنی بات پوری کرنے کے لئے ضرور ان کا خون کر دے گا۔۲؎ پس اسی وجہ سے ہمیں قانوناً و انصافاًحق پہنچا جو ہم پبلک پر اصل حقیقت ظاہر کرنے کے لئے آتھم صاحب سے قسم کا مطالبہ کریں۔ظاہر ہے کہ اگر کوئی کسی کے گھر میں مداخلت بے جا کرتا ہوا پکڑا جاوے تو صرف یہ اپنا ہی عذر اس کا سنا نہیں جائے گا کہ وہ مثلاً حقہ پینے کے لئے آگ لینے آیا تھا بلکہ اس کی بریّت اور صفائی کے لئے کسی شہادت کی حاجت ہوگی۔سو اسی طرح جب آتھم صاحب نے اپنے پندرہ مہینہ کے حالات اور نیز اقرار سے ثابت کر دیا کہ وہ ایام پیشگوئی میں ضرور ڈرتے رہے ہیں تو بے شک ان سے یہ ایک ایسی بے جا حرکت صادر ہوئی جو ان کی عیسائیت کے استقلال کے برخلاف تھی اور چونکہ وہ حرکت پیشگوئی کے زمانہ میں بلکہ بعض نمونوں کو دیکھ کر ظہور میں ۱؎ نوٹ۔آتھم صاحب نے نور افشاں ۱۰؍ اکتوبر ۱۸۹۴ء میں مطالبہ کی قسم کے بارے میں یہ جواب شائع کیا ہے کہ اگر مجھے قسم دینا ہے تو عدالت میں میری طلبی کرایئے یعنی بغیر جبر عدالت میں قسم نہیں کھا سکتا گویا ان کا ایمان عدالت کے جبر پر موقوف ہے مگر جو سچائی کے اظہار کے لئے قسم نہیں کھاتے وہ نیست و نابود کئے جائیں گے۔یرمیا ۔۲؎ آتھم صاحب نے اپنی متواتر تحریروں میں میرے پر اور میرے بعض مخلصوں پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ اس لیے اپنی موت سے ڈرتے رہے کہ میں اور میرے بعض دوست ان کے قتل کرنے کے لیے مستعد تھے اور گویا انہوں نے کئی دفعہ برچھیوں اور تلواروں کے ساتھ حملہ کرتے بھی دیکھا تو اس صورت میں اگر وہ اپنے بیجا الزاموں کو ثابت نہ کریں تو کم سے کم وہ اس جرم کے مرتکب ہیں جس کی تشریح دفعہ ۵۰۰ تعزیرات میں درج ہے وہ خوب جانتے تھے کہ کبھی میرے پر ڈاکو یا خونی ہونے کا الزام نہیں لگایا گیا اور میرا باپ گورنمنٹ میں ایک نیک نام رئیس تھا تو کیا اب تک وہ اس بیجاالزام سے زیر مطالبہ نہیں آئے اور کیا وہ اس بیہودہ عذر سے جو قسم کھانا میرے مذہب میں درست نہیں قانونی جرم سے بری ہوسکتے ہیں اور ان کے حق میں موت کی پیشگوئی ان کی درخواست سے تھی نہ خود بخود کیونکہ انہوں نے الہامی نشان مانگا تھا۔منہ