مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 563
معیار بناوے۔اور جو شخص قرآن اور رسولؐ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو اور کوئی اور راہ ڈھونڈے تو وہ وہی ہے جو بے ایمان اور حیلہ ساز ہے۔منہ باطل ہیں اور تیری ہرگز یہ عادت نہیں کہ عذاب کے وعدوں اور میعادوں میں کسی کی توبہ یا خائف اور ہراساں ہونے سے تاخیر کر دے۔بلکہ ایسی پیشگوئی سراسر جھوٹ ہے یا شیطانی ہے اور ہرگز تیری طرف سے نہیں اور اے قادر خدا اگر تو جانتا ہے کہ مَیں نے جھوٹ بولا ہے اور حق کے برخلاف کہا ہے تو مجھے ذلّت اور دُکھ کے عذاب سے ہلاک کر اور جس کی میںنے تکذیب کی ہے اس کو میری ذلّت اور میری تباہی اور میری موت دکھادے اور اس دُعا کے ساتھ ہریک دفعہ ہم آمین کہیںگے۔اور تین مرتبہ دُعا ہو گی اور تین مرتبہ ہی آمین اور بعد اس کے بلا توقّف اس قسم کھانے والے کو دوسو روپیہ نقد دیا جائے گا۔اور ہم واپسی کی شرط نہیں کرتے۔ہمارے لیے یہ کافی ہے کہ ان لوگوں میں سے کوئی سخت موذی عذاب الٰہی میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو اور لوگ عبرت پکڑیں اور راہ راست پر آویں اور شیاطین کے پنجہ سے َمخلصی پاویں، لیکن اگر کوئی اب بھی باز نہ آوے اور بیجا تکذیب سے زبان بند نہ کرے تو وہ صریح ظالم اور خدا تعالیٰ کی کتاب سے مُنہ پھیرنے والا ہے پس حق کے طالبوں کو چاہیے کہ ایسے دروغگو اور مفسد کی کسی بات پر اعتماد نہ کریں کیونکہ اس نے سچائی کی طرف رُخ نہیں کیا اور دانستہ جھوٹ کی پیروی کی۔اس سے زیادہ ہم کیا لکھیں اور کیا کہیں اور کس طور سے ایسے دلوں کو سمجھاویں جو دانستہ حق سے منہ پھیر رہے ہیں۔اگر ہمارے مخالف سچے ہیں تو اس طریق فیصلہ کو قبول کریں ورنہ جو لوگ صاف اور سچے فیصلہ سے انکار کریں اور تکذیب سے باز نہ آویں تو ان پر نہ انسان بلکہ فرشتے لعنت کرتے ہیں۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی۔راقم غلام احمد از قادیان ۶؍ ستمبر ۱۸۹۴ء۱؎ تعداد اشاعت ۵۰۰۰ (مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر) (یہ اشتہار سائز کے ۸ صفحوں پر ہے) (تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحہ ۱۱۱ تا ۱۲۲) ۱؎ نوٹ از ناشر۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس اشتہار کی درست تاریخ ۶؍ اکتوبر ۱۸۹۴ء بیان فرمائی ہے۔(انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۱۰۲ حاشیہ)