مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 562 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 562

ضرورت ہے۔۱؎ اور وہ یہ ہے کہ اگر وہ کسی طرح اپنی بے ایمانی اور یاوہ گوئی سے باز نہ آویں تو ہم ان میں سے شیخ محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی ثم امرتسری اور مولوی رشید احمد گنگوہی کو اس فیصلہ کے لیے منتخب کرتے ہیں کہ اگر وہ تینوں یا ان میں سے کوئی ایک ہمارے اس بیان کا مُنکر ہو اور اس کا یہ دعویٰ ہو کہ کوئی ایسی الہامی پیشگوئی جس میں عذاب موت کے لیے کوئی تاریخ مقرر کی گئی ہو اس تاریخ کے بارے میں خدا تعالیٰ کا یہ قانون قدرت اور سنّت قدیمہ نہیں ہے کہ وہ ایسے شخص یا ایسی قوم کی توبہ یا خائف اور ہراساں ہونے سے جن کی نسبت وہ وعدہ عذاب ہے دوسرے وقت پر جا پڑے تو طریق فیصلہ یہ ہے کہ وہ ایک تاریخ مقرر کر کے جلسہ عام میں اس بارہ میں نصوص صریحہ کتاب اللہ اور احادیث نبویہ اور کُتب سابقہ کی ہم سے سُنیں اور صرف دوگھنٹہ تک ہمیں مہلت دیں تا ہم کتاب اور سُنت اور پہلی سماوی کتابوں کے دلائل شافیہ اپنی تائید دعویٰ میں ان کے سامنے پیش کر دیں۔پھر اگر وہ قبول کر لیں تو چاہیے کہ حیا اور شرم کر کے آئندہ ایسی پیشگوئیوں کی تکذیب نہ کریں بلکہ خود موء یّد اور مصدّق ہو کر دوسرے منکروں کو سمجھاتے رہیں اور خدا تعالیٰ سے ڈریں اور تقویٰ کا طریق اختیار کریں۔اور اگر ان نصوص اور دلائل سے مُنکر ہوں اور ان کایہ خیال ہوکہ یہ دعویٰ نصوص صریحہ سے ثابت نہیں ہو سکا او ر جو دلائل بیان کئے گئے ہیں وہ باطل ہیں تو ہم ان کے لئے دو سو روپیہ نقد کا انعام مقرر کرتے ہیں کہ وہ اسی جلسہ میں تین مرتبہ بدیں الفاظ قسم کھائیں کہ اے خدا قادر ذوالجلال جو جھوٹوں کو سزا دیتا اور سچوں کی حمایت کرتا ہے، مَیں تیری ذات کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ جو کچھ دلائل پیش کئے گئے وہ سب ۱؎ نوٹ:۔اس انتظام کی اس لیے ضرورت ہے کہ بعض ملحد جن کے سیاہ دل ہیں ضرور یہ کہیں گے کہ اب اپنے بچاؤ کے لیے یہ باتیں بنا لی ہیں۔لہٰذا واجب ہے کہ یہ فیصلہ قرآن کریم اور آثار نبویہ کے رو سے کیا جائے اور مومن کو چاہیے کہ ہر یک مقدمہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف ردّ کرے اور ہر ایک امر میں خدا کی کتاب کو معیار بناوے۔اور جو شخص قرآن اور رسولؐ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو اور کوئی اور راہ ڈھونڈے تو وہ وہی ہے جو بے ایمان اور حیلہ ساز ہے۔منہ