مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 551
فیصلہ ہو جائے اور دنیا تاریکی میں نہ رہے اور اگر آپ چاہیں گے تو میں بھی ایک برس یا دو برس یا تین برس کے لئے قسم کھا لوں گا۔کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ سچا ہرگز برباد نہیں ہوسکتا بلکہ وہی ہلاک ہوگا جس کو جھوٹ نے پہلے سے ہلاک کر دیا ہے۔اگر صدق الہام اور صدق اسلام پر مجھے قسم دی جائے تو میں آپ سے ایک پیسہ نہیں لیتا لیکن آپ کے قسم کھانے کے وقت تین ہزار کے بدرے پہلے پیش کئے جائیں گے یا تحریر باضابطہ لے کر پہلے ہی دے دیئے جائیں گے اگر میں روپیہ دینے میں ذرہ بھی توقف کروں تو اسی مجلس میں جھوٹا ٹھہر جائوں گا مگر وہ روپیہ ایک سال تک بطور امانت آپ کے ضامنوں کے پاس رہے گا۔پھر آپ زندہ رہے تو آپ کی مِلک ہو جائے گا۔اور اگر اس کے سوا میرے لئے میرے کاذب نکلنے کی حالت میں سزائے موت بھی تجویز ہو تو بخدا اس کے بھگتنے کے لئے بھی تیار ہوں مگر افسوس سے لکھتا ہوں کہ اب تک آپ اس قسم کے کھانے کے لئے آمادہ نہیں ہوئے اگر آپ سچے ہیں اور میں ہی جھوٹا ہوں تو کیوں میرے روبرو جلسہ عام میں قسم مؤکد بعذاب موت نہیں کھاتے مگر آپ کی یہ تحریریں جو اخباروں میں یا خطوط کے ذریعہ سے آپ شائع کر رہے ہیں بالکل سچائی اور راست بازی کے برخلاف ہیں کیونکہ یہ باتیں بحیثیت ایک مدعا علیہ کے آپ کے منہ سے نکل رہی ہیں جو ہرگز قابل اعتبار نہیں اور میں چاہتا ہوں کہ بحیثیت ایک گواہ کے جلسہ عام میں حاضر ہوں یا چند ایسے خاص لوگوں کے جلسہ میں جن کی تعداد فریقین کی منظوری سے قائم ہو جائے۔آپ خوب سمجھتے ہیں کہ فیصلہ کرنے کے لئے اخیری طریق حلف ہے، اگر آپ اس فیصلہ کی طرف رخ نہ کریں تو آپ کو حق نہیں پہنچتاکہ آئندہ کبھی عیسائی کہلاویں مجھے حیرت پر حیرت ہے کہ اگر واقعی طور پر آپ سچے اور مَیں مفتری ہوں تو پھر کیوں ایسے فیصلہ سے آپ گریز کرتے ہیں جو آسمانی ہوگا اور صرف سچے کی حمایت کرے گا اور جھوٹے کو نابود کر دے گا۔بعض نادان عیسائیوں کا یہ کہنا کہ جو ہونا تھا ہوچکا عجیب حماقت اور بے دینی ہے وہ اس امر واقعی کو کیونکر اور کہاں چھپا سکتے ہیں کہ وہ پہلی پیشگوئی دو پہلو پر مشتمل تھی پس اگر ایک ہی پہلو پر مدار فیصلہ رکھا جائے تو اس سے بڑھ کر کون سی بے ایمانی ہو گی اور دوسرے پہلو کے امتحان کا وہی ذریعہ ہے جو الٰہی تفہیم نے میرے پر