مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 552
ظاہر کیا یعنی یہ کہ آپ قسم مؤکد بعذاب موت کھا جائیں اب اگر آپ قسم نہ کھائیں اور یوں ہی فضول گو مدعا علیہوں کی طرح اپنی عیسائیت کا اظہار کریں تو ایسے بیانات شہادت کا حکم نہیں رکھتے بلکہ تعصب اور حق پوشی پر مبنی سمجھے جاتے ہیں سو اگر آپ سچے ہیں تو میں آپ کو اُس پاک قادر ذوالجلال کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ضرور تاریخ مقرر کر کے جلسہ عام یا خاص میں حسب شرح بالا قسم مؤکد بعذابِ موت کھاویں تاحق اور باطل میں خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے فیصلہ ہوجائے۔اب میں آپ کی اس مہمل تقریر کی جو آپ نے پرچۂ نور افشاں ۲۱ ؍ستمبر ۱۸۹۴ء میں چھپوائی ہے حقیقت ظاہر کرتا ہوں کیا وہ ایک شہادت ہے جو فیصلہ کے لئے کارآمد ہوسکے ہرگز نہیں وہ تو مدعا علیہوں کے رنگ میں ایک یک طرفہ بیان ہے جس میں آپ نے جھوٹ بولنے اور حق پوشی سے ذرا خوف نہ کیا کیوں کہ آپ جانتے تھے کہ یہ بیان بطور بیان شاہد قسم کے ساتھ مؤکد نہیں بلکہ جاہلوں کے لئے ایک طفل تسلی ہے پھر آپ زبان دبا کر یہ بھی اس میں اشارہ کرتے ہیں کہ میں عام عیسائیوں کے عقیدہ ابنیت والوہیت کے ساتھ متفق نہیں اور نہ میں ان عیسائیوں سے متفق ہوں جنہوں نے آپ کے ساتھ کچھ بے ہودگی کی اور پھر آپ لکھتے ہیں کہ قریب ستر۷۰ برس کی میری عمر ہے اور پہلے اس سے اسی سال کے کسی پرچہ نور افشاں میں چھپا تھا کہ آپ کی عمر چونسٹھ برس کے قریب ہے پس میں متعجب ہوں کہ اس ذکر سے کیا فائدہ کیا آپ عمر کے لحاظ سے ڈرتے ہیں کہ شاید میں فوت ہوجائوں مگر آپ نہیں سوچتے کہ بجز ارادہ قادر مطلق کوئی فوت نہیں ہوسکتا جبکہ میں بھی قسم کھا چکا اور آپ بھی کھائیں گے تو جو شخص ہم دونوں میں جھوٹا ہوگا وہ دنیا پر اثر ہدایت ڈالنے کے لئے اس جہان سے اٹھا لیا جائے گا۔اگر آپ چونسٹھ برس کے ہیں تو میری عمر بھی قریباً ساٹھ کی ہوچکی دو خدائوں کی لڑائی ہے ایک اسلام کا اور ایک عیسائیوں کا پس جو سچا اور قادر خدا ہوگا وہ ضرور اپنے بندہ کو بچا لے گا۔اگر آپ کی نظر میں کچھ عزت اُس مسیح کی ہے جس نے مریم صدیقہ سے تولّد پایا تو اس عزت کی سفارش پیش کر کے پھر میں آپ کو خداوند قادر مطلق کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اس اشتہار کے منشاء کے موافق عام مجلس میں قسم مؤکد بعذابِ موت کھاویں یعنی یہ کہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں