مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 545
مجموعه اشتہارات ۵۴۵ جلد اول اب تک قسم کھائی ہرگز نہیں اور تعجب کہ ہم نے لکھا تھا کہ جو ولد الحلال ہے اور در حقیقت عیسائی مذہب کو ہی غالب سمجھتا ہے تو چاہیے کہ ہم سے دو ہزار روپیہ لے اور آتھم صاحب سے ہمارے منشاء کے موافق قسم دلا دے پھر جو کچھ چاہے ہمیں کہتا رہے ورنہ یوں ہی اسلامی بحث پر مخالفانہ حملہ کرنا اور زبان سے مسلمان کہلانا کسی ولد الحلال کا کام نہیں مگر میاں سعد اللہ صاحب نے آج تک آتھم صاحب کو قسم کھانے پر مستعد نہ کیا مگر عیسائیوں کو غالب سمجھتا رہا اور اپنے پر دانستہ وہ لقب لے لیا جس کو کوئی نیک طینت لے نہیں سکتا اور پھر یہ نادان کہتا ہے کہ اگر مرنا ہی عذاب کی نشانی ہے تو قادیانی بھی ضرور ایک دن اس عذاب میں مبتلا ہوگا ۔ اے احمق تیری کیوں عقل ماری گئی کیا تو قرآن نہیں پڑھتا۔ یوں تو انبیاء بھی فوت ہو گئے بلکہ بعض شہید ہوئے اور ان کے دشمن فرعون اور ابو جہل وغیرہ بھی مر گئے یا مارے گئے لیکن وہ موت جو مقابلہ کے وقت اہل حق کی دعا سے یا اہل حق کے ایذا سے یا اہل حق کی پیشگوئی سے اشقیا پر وارد ہوتی ہے وہ عذاب کی موت کہلاتی ہے کیونکہ جہنم تک پہنچاتی ہے مگر اہل حق اگر شہید بھی ہو جائیں تو وہ خدا کے فضل سے بہشت میں جاتے ہیں ۔ (۱۲) بارواں اعتراض اسی ہندو زادہ کا یہ ہے کہ جب کوئی عمل نہ چلا تو ڈھکوسلا بنا لیا کہ آتھم نے رجوع بحق کیا ہے۔ - الجواب ۔ ہاں اے: اے ہندو زادہ اب ثابت ہو گیا کہ ضرور تو ۔ لہ ضرور تو حلال زادہ ہے ہماری اس شرط پر کہ کوئی آتھم کو قسم دینے سے پہلے تکذیب نہ کرے خوب ہی تو نے عمل کیا آفرین آفرین۔ سچ کہہ کہ یہ ڈھکوسلا اب بنالیا یا الہام میں پہلے سے شرط تھی اور کیا اس شرط کے تصفیہ کے لئے ضرور نہ تھا کہ آتھم قسم کھا لیتا ۔ کیا قسم کے دو حرف منہ پر لانا اور تین ہزار روپیہ نقد لینا ایک سچے آدمی کے لئے کچھ مشکل ہے !!! (۱۳) بعض شبہات ایسے لوگوں کی طرف سے ہیں جو اخلاص رکھتے ہیں لیکن باعث کمی معلومات بے خبر ہیں پس ہم اس جگہ ان کے اوہام کو بھی بطور قولہ اقول دفع کر دیتے ہیں ۔ قولہ ۔ آتھم اسلام کی طرف رجوع کرنے سے صریح اپنے خط مطبوعہ میں انکار کرتا ہے