مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 540
مشتبہ کا فیصلہ ہو جائے۔(۸) آٹھواں اعتراض۔یہ ہے کہ اگر صداقت کا صرف اقبال یا اقرار باعث تاخیر موت ہے تو ہم اہل اسلام کو کبھی موت نہیں آنی چاہیے کیونکہ صداقت کے پیرو ہیں۔جبکہ دشمن خدا ذرا سے منافقانہ رجوع کے باعث جو وہ بھی پوشیدہ ہے موت سے بچ جائے تو ہم جو عَلٰی رُ ؤُسِ الْاَشْہَاد رجوع کئے بیٹھے ہیں۔بے شک حیات جاودانی کے مستحق ہیں۔الجواب۔عزیز من جو لوگ سچے دل سے لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کے قائل ہیں اور پھر بعد اس کے ایسے کام نہیں کرتے جو اس کلمہ کے مخالف ہیں بلکہ توحید کو اپنے دل پر وارد کر کے رسالت محمدیہ کے جھنڈے کے نیچے ایسی استقامت سے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کوئی ہولناک آواز بندوق یا توپ کی ان کو اس جگہ سے جنبش نہیں دے سکتی اور نہ تیز تلواروں کی چمکیں ان کی آنکھوں کو خیرہ کرسکتی ہیں اور نہ وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی ہوکر اس جھنڈے سے باہر آسکتے ہیں بیشک وہ لوگ حیاتِ جاودانی پائیں گے کس خبیث نے کہا کہ نہیں پائیں گے اور وہ دائمی زندگی کے ضرور ہی وارث ہوں گے کون ملعون کہتا ہے کہ نہیں وارث ہوں گے لیکن ایک کافر یا فاسق کا خوف کے دنوں میں کچھ مدت تک عذاب سے بچ جانا یہ خدا رحیم کی طرف سے ایک مہلت دینا ہے تا شاید وہ ایمان لاوے یا اس پر حجت پوری ہو جائے اور جب اللہ تعالیٰ ایک کافر کو اپنے غضب کی آگ سے ہلاک کرنا چاہے تو اس کی یہی سنت قدیم ہے کہ وہ خوف سے بھرے ہوئے رجوع کے وقت خواہ وہ رجوع بعد ایام خوف قائم رہنے والا ہو یا نہ ہو ضرور عذاب کو کسی دوسرے وقت پر ٹال دیتا ہے مگر مومنوں کی موت اگر اس کا وقت پہنچ گیا ہو تو وہ بطور عذاب نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک پُل ہے جو حبیب کو حبیب کی طرف پہنچاتا ہے اور وہ مرنے کے بعد اس لذت اور راحت کے وارث ہو جاتے ہیں جس کی نظیر اس دنیا میں نہیں مگر کافر کے لئے موت جہنم کا پہلا زینہ ہے جو اس سے گرتے ہی واصل ہاویہ ہوتا ہے۔(۹) نواں اعتراض۔یہ ہے کہ اگر پادری رائٹ فریق مخالف میں سے پیشگوئی کی میعاد میں مر گئے تو اس کے مقابلہ میں آپ کے کئی مقرب عیسائی ہوگئے۔